مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: کوتاہی سے میت کے رہ جانے والے روزوں کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1757
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْثَرُ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامُ شَهْرٍ فَلْيُطْعَمْ عَنْهُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص مر جائے ، اور اس پہ رمضان کے روزے ہوں تو اس کی جانب سے ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1757
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (718), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 442
حدیث تخریج « سنن الترمذی/الصوم 23 ( 718 ) ، ( تحفة الأشراف : 8423 ) ( صحیح ) » ( اس کی سند میں محمد بن سیرین کا ذکر وہم ہے ، سنن ترمذی میں صرف ”محمد“ کا ذکر بغیر کسی نسبت کے ہے ، امام ترمذی کہتے ہیں کہ محمد سے میرے نزدیک ابن عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ ہیں ، اور اس حدیث کو ہم مرفوعاً اسی طریق سے جانتے ہیں ، اور صحیح ابن عمر رضی اللہ عنہما سے موقوفاً ہے ، نیز ملاحظہ ہو : صحیح ابن خزیمہ 2056 ، وکامل ابن عدی 1؍365 ، اور محمد بن عبدالرحمن بن أبی لیلیٰ سوء حفظ کی وجہ سے ضعیف ہیں ، حافظ ابن حجر کہتے ہیں : «صدوق سئی الحفظ جداً» ، صدوق ہیں ، اور حافظہ بہت برا ہے )

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔