مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: عیدالفطر کے دن عیدگاہ جانے سے پہلے کچھ کھا لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1754
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَطْعَمَ تَمَرَاتٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن چند کھجوریں کھائے بغیر عید کے لیے نہیں نکلتے تھے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: عید الفطر کے دن نماز سے پہلے کچھ کھا لینا سنت ہے، اگر کھجوریں ہوں تو بہتر ہے، ورنہ جو میسر ہو کھائے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1754
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
حدیث تخریج « صحیح البخاری/العیدین 4 ( 953 ) ، ( تحفة الأشراف : 1082 ) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الصلاة 273 ( 543 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 3/126 ، 232 ) ( صحیح ) » ( سند میں جبارہ بن مغلس ضعیف راوی ہے ، لیکن سعید بن سلیمان نے صحیح بخاری میں ان کی متابعت کی ہے )
حدیث نمبر: 1755
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، حَدَّثَنَا مَنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ صَهْبَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَغْدُو يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يُغَذِّيَ أَصْحَابَهُ مِنْ صَدَقَةِ الْفِطْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر میں عید گاہ اس وقت تک نہیں جاتے تھے جب تک کہ اپنے ( مساکین ) صحابہ کو اس صدقہ فطر میں سے کھلا نہ دیتے ( جو آپ کے پاس جمع ہوتا ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1755
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدًا, جبارة و مندل: مجروحان, وعمر بن صھبان: ضعيف (تقريب: 4923), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 442
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 8234 ، ومصباح الزجاجة : 631 ) ( ضعیف ) » ( جبارہ ، مندل اور عمر بن صہبان ضعیف ہیں ، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 4248 )
حدیث نمبر: 1756
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا ثَوَابُ بْنُ عُتْبَةَ الْمَهْرِيُّ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ لَا يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَأْكُلَ ، وَكَانَ لَا يَأْكُلُ يَوْمَ النَّحْرِ حَتَّى يَرْجِعَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن جب تک کہ کچھ کھا نہ لیتے نہیں نکلتے اور عید الاضحی کے دن نہیں کھاتے جب تک کہ ( عید گاہ سے ) واپس نہ آ جاتے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ عیدالفطر کے دن نماز عید سے پہلے کچھ کھانا، اور عیدالاضحی کے دن بغیر کچھ کھائے نماز ادا کرنا سنت ہے، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کھانے میں کسی خاص چیز کی ہدایت نہیں ہے، البتہ کھجور یا چھوہارے کھا کر جانا مسنون ہے، اس لیے رسول اللہ ﷺ عیدالفطر کے دن طاق کھجوریں کھا کر عیدگاہ جایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1756
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
حدیث تخریج « سنن الترمذی/الصلاة 273 ( 542 ) ، ( تحفة الأشراف : 1954 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/252 ، 360 ) ، سنن الدارمی/الصلاة 217 ( 1641 ) ( صحیح ) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔