مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: روزہ دار کو کھانے کی دعوت دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1750
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کسی کو کھانا کھانے کے لیے بلایا جائے ، اور وہ روزے سے ہو ، تو کہے کہ میں روزے سے ہوں “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: میں صوم سے ہوں کہنے کا حکم دعوت قبول نہ کرنے کی معذرت کے طور پر ہے اگرچہ نوافل کا چھپانا بہتر ہے لیکن یہاں اس کے ظاہر کرنے کا حکم اس لیے ہے کہ تاکہ داعی کے دل میں مدعو کے خلاف کوئی غلط فہمی یا کدورت راہ نہ پائے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1750
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج « صحیح مسلم/الصوم 28 ( 1150 ) ، سنن ابی داود/الصوم 76 ( 2461 ) ، سنن الترمذی/الصوم 64 ( 781 ) ، ( تحفة الأشراف : 13671 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/ 242 ، سنن الدارمی/الصیام 31 ( 1778 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1751
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ دُعِيَ إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيُجِبْ فَإِنْ شَاءَ طَعِمَ ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کسی کو کھانے کے لیے دعوت دی جائے ، اور وہ روزے سے ہو تو وہ دعوت قبول کرے ، پھر اگر چاہے تو کھائے اور اگر چاہے تو نہ کھائے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1751
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج « صحیح مسلم/النکاح 16 ( 1430 ) ، ( تحفة الأشراف : 2830 ) ، سنن ابی داود/الأطعمة 1 ( 3740 ) ، مسند احمد ( 3/392 ) ( صحیح ) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔