مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: روزہ دار کے سامنے کھانا کھایا جائے تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1748
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَسَهْلٌ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا : لَيْلَى ، عَنْ أُمِّ عُمَارَةَ ، قَالَتْ : أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ طَعَامًا ، فَكَانَ بَعْضُ مَنْ عِنْدَهُ صَائِمًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصَّائِمُ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ الطَّعَامُ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام عمارہ بنت کعب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، تو ہم نے آپ کو کھانا پیش کیا ، آپ کے ساتھیوں میں سے کچھ روزے سے تھے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” روزہ دار کے سامنے جب کھانا کھایا جائے ( اور وہ صبر کرے ) تو فرشتے اس کے لیے دعا کرتے ہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1748
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
حدیث تخریج « سنن الترمذی/الصوم 67 ( 784 ، 785 ) ، ( تحفة الأشراف : 18335 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 6/365 ، 439 ) ، سنن الدارمی/الصوم 32 ( 1779 ) ( ضعیف ) » ( لیلیٰ مولاة ام عمارة لین الحدیث ہیں ، اور ان کا کوئی متابع نہیں ہے )
حدیث نمبر: 1749
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلَالٍ : " الْغَدَاءُ يَا بِلَالُ " ، فَقَالَ : إِنِّي صَائِمٌ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَأْكُلُ أَرْزَاقَنَا ، وَفَضْلُ رِزْقِ بِلَالٍ فِي الْجَنَّةِ ، أَشَعَرْتَ يَا بِلَالُ أَنَّ الصَّائِمَ تُسَبِّحُ عِظَامُهُ ، وَتَسْتَغْفِرُ لَهُ الْمَلَائِكَةُ مَا أُكِلَ عِنْدَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” اے بلال ! دوپہر کا کھانا حاضر ہے ، انہوں نے کہا : میں روزے سے ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم تو اپنی روزی کھا رہے ہیں ، اور بلال کی بچی ہوئی روزی جنت میں ہے ، تم کو معلوم ہے ، اے بلال ! روزہ دار کی ہڈیاں تسبیح بیان کرتی ہیں ، اور فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں ، جب تک اس کے سامنے کھانا کھایا جاتا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1749
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: موضوع , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده موضوع, محمد بن عبد الرحمٰن القشيري: كذبوه (تقريب: 6090) يعني أنه كذاب عند المحدثين, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 442
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 1944 ، ومصباح الزجاجة : 629 ) ( موضوع ) » ( محمد بن عبد الرحمن کی ناقدین نے تکذیب کی ہے ، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 1332 )

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔