مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: روزہ افطار کرانے والے کا ثواب۔
حدیث نمبر: 1746
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، وَخَالِي يَعْلَى ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ حَجَّاجٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کوئی کسی روزہ دار کو افطار کرا دے تو اس کو روزہ دار کے برابر ثواب ملے گا ، اور روزہ دار کے ثواب میں سے کوئی کمی نہیں ہو گی “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: سبحان اللہ، روزہ دار کا روزہ افطار کرانا، اس میں بھی روزے کے برابر ثواب ہے، دوسری روایت میں ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہر شخص میں اتنی استعداد کہاں ہوتی ہے کہ روزہ دار کا روزہ افطار کرائے، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ ثواب اس کو بھی ملے گا جو روزہ دار کا روزہ دودھ ملے ہوئے ایک گھونٹ پانی سے کھلوا دے، یا ایک کھجور، یا ایک گھونٹ پانی سے کھلوا دے، اور جو کوئی روزہ دار کو پیٹ بھر کے کھلا دے اس کو تو اللہ تعالی میرے حوض سے ایک گھونٹ پلائے گا، اس کے بعد وہ پیاسا نہ ہو گا یہاں تک کہ جنت میں داخل ہو گا (سنن بیہقی)۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1746
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج « سنن الترمذی/الصوم 82 ( 807 ) ، ( تحفة الأشراف : 3760 ) ، ( 4/114 ، 116 ، 5/192 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1747
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى اللَّخْمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : أَفْطَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، فَقَالَ : " أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ ، وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس افطار کیا اور فرمایا : ” تمہارے پاس روزہ رکھنے والوں نے افطار کیا ، اور تمہارا کھانا ، نیک لوگوں نے کھایا اور تمہارے لیے فرشتوں نے دعا کی “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1747
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح دون قوله أفطر رسول الله صلى الله عليه وسلم , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, مصعب بن ثابت الأسدي ضعيف, و روي الطحاوي في مشكل الآثار (1/ 498۔499) عن أنس ابن مالك قال: … فأتي إلي باب سعد بن عبادة … فدخل فجلس فقرب إليه سعد طعامًا فأصاب النبي ﷺ فلما أراد النبي صلي اللّٰه عليه و آله وسلم أن ينصرف قال: ((أكل طعامكم الأبرار و أفطر عندكم الصائمون و صلت عليكم الملائكة)) و سنده حسن،انظر سنن أبي داود (بتحقيقي: 3854) و ھو يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 442
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 5287 ، ومصباح الزجاجة : 627 ) ( صحیح ) » ( سند میں مصعب بن ثابت ضعیف ہیں ، بالخصوص عبد اللہ بن زبیر سے روایت میں ، لیکن قول رسول صحیح ہے ، فعل رسول ضعیف ہے ، نیز ملاحظہ ہو : آداب الزفاف : 85-86 )

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔