مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: سنیچر کے دن روزہ رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1726
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا فِيمَا افْتُرِضَ عَلَيْكُمْ ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا عُودَ عِنَبٍ ، أَوْ لِحَاءَ شَجَرَةٍ فَلْيَمُصَّهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سنیچر کے دن روزہ نہ رکھو ، سوائے فرض روزہ کے ، اگر تم میں سے کسی کو انگور کی شاخ یا کسی درخت کی چھال کے علاوہ کوئی اور چیز کھانے کو نہ ملے تو اسی کو چوس لے “ ( لیکن روزہ نہ رکھے ) ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے، اور اس میں کراہت کا مطلب یہ ہے آدمی سنیچر کو روزے کے لیے مخصوص کر دے کیونکہ یہود اس دن کی تعظیم کرتے ہیں، رہی وہ روایتیں جن میں سنیچر کے دن صوم رکھنے کا ذکر ہے تو ان دونوں میں کوئی تعارض نہیں کیونکہ ممانعت اس صورت میں ہے جب اسے روزے کے لیے خاص کر لے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1726
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 5191 ، ومصباح الزجاجة : 620 ) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الصوم 51 ( 2421 ) ، سنن الترمذی/الصوم 43 ( 744 ) ، مسند احمد ( 6/368 ) ، سنن الدارمی/الصوم 40 ( 1790 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1726M
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، عَنْ أُخْتِهِ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن بسر کی بہن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، پھر اسی جیسی روایت بیان کی ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1726M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
حدیث تخریج t
حدیث نمبر: 1727
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهَا أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ يَعْنِي الْعَشْرَ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَالَ : " وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان دنوں یعنی ذی الحجہ کے دس دنوں سے بڑھ کر کوئی بھی دن ایسا نہیں کہ جس میں نیک عمل کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان دنوں کے نیک عمل سے زیادہ پسندیدہ ہو “ ، لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی اتنا پسند نہیں ، مگر جو شخص اپنی جان اور مال لے کر نکلے ، اور پھر لوٹ کر نہ آئے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1727
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
حدیث تخریج « صحیح البخاری/العیدین 11 ( 969 ) ، سنن ابی داود/الصوم 61 ( 2438 ) ، سنن الترمذی/الصوم 52 ( 757 ) ، ( تحفة الأشراف : 5614 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/224 ، 338 ، 346 ) ، سنن الدارمی/الصوم 52 ( 1814 ) ( صحیح ) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔