مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: ماہ شوال کے چھ روزوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1715
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الذَّمَارِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أَسْمَاءَ الرَّحَبِيَّ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ صَامَ سِتَّةَ أَيَّامٍ بَعْدَ الْفِطْرِ ، كَانَ تَمَامَ السَّنَةِ ، مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ ، فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے عید الفطر کے بعد چھ روزے رکھے تو اس کو پورے سال کے روزے کا ثواب ملے گا “ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : «من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها» یعنی ” جو ایک نیکی کرے گا اسے دس نیکیوں کا ثواب ملے گا “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: تو رمضان کے تیس روزے اور ۶ عید کے کل ۳۶ ہوئے، دس سے ضرب دینے میں ۳۶۰ روزے ہوتے ہیں، اور سال کے اتنے ہی دن ہیں، پس گویا اس نے سال بھر روزے رکھے، سبحان اللہ حق تعالی کی اپنے ناتواں بندوں پر کیا عنایت ہے، اب اختلاف ہے کہ یہ روزے عید کے بعد ہی رکھنا شروع کرے اور شوال کی سات تاریخ تک پورے کرلے، یا شوال کے مہینہ میں جب چاہے رکھ لے؟ مسلسل یا الگ الگ دن میں، ہر طرح جائز ہے، ہر حال میں سال بھر کے روزوں کا ثواب حاصل ہو جائے گا، ان شاء اللہ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1715
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 2107 ، ومصباح الزجاجة : 617 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/280 ) ، سنن الدارمی/الصوم 44 ( 1796 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1716
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ، ثُمَّ أَتْبَعَهُ بِسِتٍّ مِنْ شَوَّالٍ كَانَ كَصَوْمِ الدَّهْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے رمضان کا روزہ رکھا ، پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے ، تو وہ پورے سال روزے رکھنے کے برابر ہو گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1716
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج « صحیح مسلم/الصوم 29 ( 1164 ) ، سنن ابی داود/الصوم 58 ( 2433 ) ، سنن الترمذی/الصوم 53 ( 759 ) ، ( تحفة الأشراف : 3482 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/417 ، 419 ) ، سنن الدارمی/الصوم 44 ( 1795 ) ( حسن صحیح ) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔