مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نفلی روزوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1710
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، فَقَالَتْ : " كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ ، وَلَمْ أَرَهُ صَامَ مِنْ شَهْرٍ قَطُّ أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ مِنْ شَعْبَانَ ، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ ، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيلًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری کہتے ہیں کہ` میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے سلسلے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے یہاں تک کہ ہم یہ کہتے کہ آپ روزے ہی رکھتے جائیں گے ، اور روزے چھوڑ دیتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھیں گے ہی نہیں ، اور میں نے آپ کو شعبان سے زیادہ کسی مہینہ میں روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ، آپ سوائے چند روز کے پورے شعبان روزے رکھتے تھے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: شعبان کے مہینے میں آپ ﷺ کے کثرت سے روزے رکھنے کی وجہ یہ تھی کہ اس مہینے میں انسان کے اعمال رب العالمین کی بارگاہ میں پیش کئے جاتے ہیں، تو آپ اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ آپ کے اعمال اللہ کے پاس حالت روزے میں پیش ہوں، اور چونکہ آپ کو روحانی قوت حاصل تھی اس لیے یہ روزے آپ کے لیے کمزوری کا سبب نہیں بنتے تھے اس لیے پندرہویں شعبان کے بعد بھی آپ کے لیے روزہ رکھنا جائز تھا، اس کے برخلاف امت کے لیے یہ حکم ہے کہ وہ شعبان کے نصف ثانی میں روزے نہ رکھے تاکہ رمضان کے روزوں کے لیے قوت و توانائی برقرار ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1710
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج « صحیح مسلم/الصوم 34 ( 1156 ) ، سنن النسائی/الصوم 19 ( 2179 ) ، ( تحفة الأشراف : 17729 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الصوم 52 ( 1969 ) ، سنن ابی داود/الصوم 59 ( 2434 ) ، سنن الترمذی/الصوم 37 ( 736 ) ، موطا امام مالک/الصیام 22 ( 56 ) ، مسند احمد ( 6/39 ، 80 ، 84 ، 89 ، 107 ، 128 ، 143 ، 153 ، 165 ، 179 ، 233 ، 242 ، 249 ، 268 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1711
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ ، وَمَا صَامَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا إِلَّا رَمَضَانَ مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم یہ کہتے کہ آپ روزے چھوڑیں گے ہی نہیں ، اور روزے چھوڑ دیتے یہاں تک کہ ہم یہ کہتے کہ آپ روزے رکھیں گے ہی نہیں ، اور جب سے آپ مدینہ آئے آپ نے رمضان کے سوا کسی بھی مہینے کا روزہ لگاتار نہیں رکھا ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1711
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
حدیث تخریج « صحیح البخاری/الصوم 53 ( 1971 ) ، صحیح مسلم/الصوم 34 ( 1157 ) ، سنن الترمذی/الشمائل 42 ( 283 ) ، سنن النسائی/الصیام 41 ( 2348 ) ، ( تحفة الأشراف : 5447 ) ، مسند احمد ( 1/227 ، 231 ، 241 ، 301 ، 321 ) ، سنن الدارمی/الصوم 36 ( 1784 ) ( صحیح ) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔