مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: روزے کا ارادہ رکھتے ہوئے صبح تک جنبی رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1702
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْقَارِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : " لَا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ، مَا أَنَا قُلْتُ : مَنْ أَصْبَحَ وَهُوَ جُنُبٌ فَلْيُفْطِرْ ، مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` رب کعبہ کی قسم ! یہ بات کہ کوئی جنابت کی حالت میں صبح کرے تو روزہ توڑ دے ، میں نے نہیں کہی بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ حکم یا تو منسوخ ہے یا مرجوح کیونکہ صحیحین (بخاری و مسلم) میں ہے کہ رسول اللہﷺ کو فجر پا لیتی اور آپ اپنی بیوی سے جماع کی وجہ سے حالت جنابت میں ہوتے نہ کہ احتلام کی وجہ سے، پھر طلوع فجر کے بعد غسل کرتے اور روزہ رکھتے تھے، اور صحیح مسلم میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت میں اس بات کی تصریح ہے کہ یہ نبی اکرم ﷺ کے خصائص میں سے نہیں ہے، اور صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو جب یہ حدیث پہنچی تو انھوں نے اس سے رجوع کر لیا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1702
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 13583 ، ومصباح الزجاجة : 1702 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الصوم 22 ( 1926 ) ، صحیح مسلم/الصیام 13 ( 1109 ) ، موطا امام مالک/الصیام 4 ( 9 ) ، مسند احمد ( 2/248 ، 286 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1703
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبِيتُ جُنُبًا ، فَيَأْتِيهِ بِلَالٌ فَيُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَيَقُومُ فَيَغْتَسِلُ ، فَأَنْظُرُ إِلَى تَحَدُّرِ الْمَاءِ مِنْ رَأْسِهِ ، ثُمَّ يَخْرُجُ فَأَسْمَعُ صَوْتَهُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ " ، قَالَ مُطَرِّفٌ : فَقُلْتُ لِعَامِرٍ : أَفِي رَمَضَانَ ؟ ، قَالَ : رَمَضَانُ وَغَيْرُهُ سَوَاءٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں رات گزارتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بلال رضی اللہ عنہ آتے ، اور آپ کو نماز کی اطلاع دیتے تو آپ اٹھتے اور غسل فرماتے ، میں آپ کے سر سے پانی ٹپکتے ہوئے دیکھتی تھی ، پھر آپ نکلتے تو میں نماز فجر میں آپ کی آواز سنتی ۔ مطرف کہتے ہیں : میں نے عامر سے پوچھا : کیا ایسا رمضان میں ہوتا ؟ انہوں نے کہا کہ رمضان اور غیر رمضان سب برابر تھا ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1703
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 17622 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الصوم 22 ( 1925 ) ، صحیح مسلم/الصوم 13 ( 1109 ) ، سنن ابی داود/الصوم 36 ( 2388 ) ، سنن الترمذی/الصوم 63 ( 779 ) ، موطا امام مالک/الصیام 4 ( 11 ) ، مسند احمد ( 1/211 ، 6/34 ، 36 ، 38 ، 203 ، 213 ، 216 ، 229 ، 266 ، 278 ، 289 ، 290 ، 308 ) ، سنن الدارمی/الصوم 22 ( 1766 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1704
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَةَ ، عَنِ الرَّجُلِ يُصْبِحُ وَهُوَ جُنُبٌ يُرِيدُ الصَّوْمَ ؟ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنَ الْوِقَاعِ لَا مِنِ احْتِلَامٍ ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ وَيُتِمُّ صَوْمَهُ ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نافع کہتے ہیں کہ` میں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو جنابت کی حالت میں صبح کرے ، اور وہ روزہ رکھنا چاہتا ہو ؟ تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنبی ہونے کی حالت میں صبح کرتے تھے ، اور آپ کی جنابت جماع سے ہوتی نہ کہ احتلام سے ، پھر غسل کرتے اور اپنا روزہ پورا کرتے ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1704
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 18218 ) ( صحیح ) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔