مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: فرض روزے کی نیت رات میں ضروری ہونے اور نفلی روزے میں اختیار ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1700
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْقَطَوَانِيُّ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا صِيَامَ لِمَنْ لَمْ يَفْرِضْهُ مِنَ اللَّيْلِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس شخص کا روزی نہیں جو رات ہی میں اس کی نیت نہ کر لے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: روزہ دار کے لیے رات میں نیت کرنے کا یہ حکم فرض اور قضا و کفارہ کے روزے کے سلسلہ میں ہے، نفلی صیام کے لئے رات میں نیت ضروری نہیں جیسا کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے جو نیچے آگے رہی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1700
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سنن أبي داود (2454) ترمذي (730) نسائي (2333), الزھري مدلس وعنعن, وأخرج النسائي (2338) بإسناد صحيح كالشمس عن حفصة قالت: ’’لاصيام لمن لم يجمع قبل الفجر ‘‘ موقوف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 441
حدیث تخریج « سنن ابی داود/الصوم 71 ( 2454 ) ، سنن الترمذی/الصوم 33 ( 730 ) ، سنن النسائی/الصیام 39 ( 2333 ، ) ، ( تحفة الأشراف : 15802 ) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الصیام2 ( 5 ) ، مسند احمد ( 6/278 ) ، سنن الدارمی/الصوم 10 ( 1740 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1701
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ ؟ " ، فَنَقُولُ : لَا ، فَيَقُولُ : " إِنِّي صَائِمٌ " فَيُقِيمُ عَلَى صَوْمِهِ ، ثُمَّ يُهْدَى لَنَا شَيْءٌ فَيُفْطِرُ ، قَالَتْ : وَرُبَّمَا صَامَ وَأَفْطَرَ ، قُلْتُ : كَيْفَ ذَا ؟ ، قَالَتْ : إِنَّمَا مَثَلُ هَذَا ، مَثَلُ الَّذِي يَخْرُجُ بِصَدَقَةٍ فَيُعْطِي بَعْضًا وَيُمْسِكُ بَعْضًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آتے اور پوچھتے : ” کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے “ ؟ ہم کہتے : نہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے : ” میں روزے سے ہوں “ ، اور اپنے روزے پر قائم رہتے ، پھر کوئی چیز بطور ہدیہ آتی تو روزہ توڑ دیتے ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ کبھی روزہ رکھتے ، اور کبھی کھول دیتے ، میں نے پوچھا : یہ کیسے ؟ تو کہا : اس کی مثال ایسی ہے جیسے کہ کوئی صدقہ نکالے پھر کچھ دے اور کچھ رکھ لے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر دعوت ہو یا عمدہ کھانا سامنے آ جائے، یا کوئی دوست کھانے کے لئے اصرار کرے تو نفلی روزہ توڑ ڈالے، یہی نبی کریم ﷺ کی سنت ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1701
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 17578 ) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الصوم 32 ( 1154 ) ، سنن ابی داود/الصوم 72 ( 2455 ) ، سنن الترمذی/الصوم 35 ( 734 ) ، سنن النسائی/الصوم 39 ( 2327 ) ، مسند احمد ( 6/49 ، 207 ) ( حسن صحیح ) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔