مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: افطار کرنے میں جلدی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1697
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْإِفْطَارَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے ، ہمیشہ خیر میں رہیں گے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی سورج ڈوبنے کے بعد روزہ کھولنے میں دیر نہ کریں گے تو ہمیشہ خیر میں رہیں گے، یہ مطلب نہیں ہے کہ وقت سے پہلے ہی روزہ کھول دیں۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1697
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
حدیث تخریج « صحیح مسلم/الصوم 9 ( 1098 ) ، ( تحفة الأشراف : 4722 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الصوم 45 ( 1957 ) ، سنن الترمذی/الصوم 13 ( 699 ) ، موطا امام مالک/الصیام 3 ( 6 ) ، سنن الدارمی/الصوم 11 ( 1741 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1698
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ ، عَجِّلُوا الْفِطْرَ فَإِنَّ الْيَهُودَ يُؤَخِّرُونَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے ہمیشہ خیر میں رہیں گے ، تم لوگ افطار میں جلدی کرو اس لیے کہ یہود اس میں دیر کرتے ہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1698
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 15090 ، ومصباح الزجاجة : 614 ) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الصوم20 ( 2353 ) ، مسند احمد ( 2/450 ) ( حسن صحیح ) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔