مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: روزہ دار کا بیوی سے مباشرت (ساتھ سونے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 1687
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : دَخَلَ الْأَسْوَدُ ، وَمَسْرُوقٌ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَا : أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ ؟ ، قَالَتْ : " كَانَ يَفْعَلُ ، وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسود اور مسروق ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ، اور پوچھا` کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں مباشرت کرتے ( ساتھ سوتے ) تھے ؟ ، انہوں نے کہا : ہاں ، آپ ایسا کرتے تھے ، اور آپ تم سب سے زیادہ اپنی خواہش پر قابو رکھنے والے آدمی تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1687
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج « صحیح مسلم/الصوم 12 ( 1106 ) ، ( تحفة الأشراف : 15972 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الصوم 23 ( 1927 ) ، سنن الترمذی/الصوم 32 ( 728 ) ، سنن الدارمی/الطہارة 81 ( 796 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1688
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " رُخِّصَ لِلْكَبِيرِ الصَّائِمِ فِي الْمُبَاشَرَةِ ، وَكُرِهَ لِلشَّابِّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` بوڑھے روزہ دار کو بیوی سے چمٹ کر سونے کی رخصت دی گئی ہے ، لیکن نوجوانوں کے لیے مکروہ قرار دی گئی ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس میں خطرہ ہے کہ کہیں وہ جماع نہ کر بیٹھیں۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1688
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 5578 ، ومصباح الزجاجة : 611 ) ( صحیح ) » ( محمد بن خالد ضعیف ہے ، اور عطاء بن سائب اختلاط کا شکار ہو گئے تھے ، خالد واسطی نے ان سے اختلاط کے بعد روایت کی ، نیز ملاحظہ ہو : صحیح أبی داود : 2065 )

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔