حدیث نمبر: 1687
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : دَخَلَ الْأَسْوَدُ ، وَمَسْرُوقٌ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَا : أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ ؟ ، قَالَتْ : " كَانَ يَفْعَلُ ، وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسود اور مسروق ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ، اور پوچھا` کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں مباشرت کرتے ( ساتھ سوتے ) تھے ؟ ، انہوں نے کہا : ہاں ، آپ ایسا کرتے تھے ، اور آپ تم سب سے زیادہ اپنی خواہش پر قابو رکھنے والے آدمی تھے ۔
حدیث نمبر: 1688
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " رُخِّصَ لِلْكَبِيرِ الصَّائِمِ فِي الْمُبَاشَرَةِ ، وَكُرِهَ لِلشَّابِّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` بوڑھے روزہ دار کو بیوی سے چمٹ کر سونے کی رخصت دی گئی ہے ، لیکن نوجوانوں کے لیے مکروہ قرار دی گئی ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس میں خطرہ ہے کہ کہیں وہ جماع نہ کر بیٹھیں۔