مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کے روزہ نہ رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1667
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ ، وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ قَالَ : أَغَارَتْ عَلَيْنَا خَيْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَغَدَّى ، فَقَالَ : " ادْنُ فَكُلْ " ، قُلْتُ : إِنِّي صَائِمٌ ، قَالَ : " اجْلِسْ أُحَدِّثْكَ عَنِ الصَّوْمِ ، أَوِ الصِّيَامِ ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ شَطْرَ الصَّلَاةِ ، وَعَنِ الْمُسَافِرِ ، وَالْحَامِلِ ، وَالْمُرْضِعِ الصَّوْمَ ، أَوِ الصِّيَامَ " ، وَاللَّهِ لَقَدْ قَالَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِلْتَاهُمَا ، أَوْ إِحْدَاهُمَا ، فَيَا لَهْفَ نَفْسِي ، فَهَلَّا كُنْتُ طَعِمْتُ مِنْ طَعَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` قبیلہ بنی عبدالاشہل کے اور علی بن محمد کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی عبداللہ بن کعب کے ایک شخص نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوار ہمارے اوپر حملہ آور ہوئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور آپ دوپہر کا کھانا تناول فرما رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قریب آ جاؤ اور کھاؤ “ میں نے کہا : میں روزے سے ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیٹھو میں تمہیں روزے کے سلسلے میں بتاتا ہوں “ اللہ تعالیٰ نے مسافر سے آدھی نماز معاف کر دی ہے ، اور مسافر ، حاملہ اور مرضعہ ( دودھ پلانے والی ) سے روزہ معاف کر دیا ہے ، قسم اللہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں باتیں فرمائیں ، یا ایک بات فرمائی ، اب میں اپنے اوپر افسوس کرتا ہوں کہ میں نے آپ کے کھانے میں سے کیوں نہیں کھایا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اگر ان کے روزہ رکھنے سے پیٹ کے بچہ کو یا دودھ پینے والے بچے کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو وہ روزہ نہ رکھیں، اور بعد میں ان کی قضا کریں۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1667
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
حدیث تخریج « سنن ابی داود/الصوم 43 ( 2408 ) ، سنن الترمذی/الصوم 21 ( 715 ) ، سنن النسائی/الصوم 28 ( 2276 ) ، 34 ( 1317 ) ، ( تحفة الأشراف : 1732 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/347 ، 5/29 ) ( حسن صحیح ) »
حدیث نمبر: 1668
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحُبْلَى الَّتِي تَخَافُ عَلَى نَفْسِهَا أَنْ تُفْطِرَ ، وَلِلْمُرْضِعِ الَّتِي تَخَافُ عَلَى وَلَدِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاملہ کو جسے اپنی جان کا ڈر ہو ، اور دودھ پلانے والی عورت کو جسے اپنے بچے کا ڈر ہو ، رخصت دی کہ وہ دونوں روزے نہ رکھیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1668
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف جدا , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدًا, الربيع بن بدر: متروك, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 440
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 540 ) ( ضعیف جدا ) » ( اس کی سند میں ربیع بن بدر متروک راوی ہیں )

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔