مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: عید کے دونوں مہینوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1659
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ رَمَضَانُ ، وَذُو الْحِجَّةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عید کے دونوں مہینے رمضان اور ذی الحجہ کم نہیں ہوتے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی دونوں مہینے ۲۹ دن کے نہیں ہوتے، اگر ایک ۲۹ کا ہوتا ہے، تو دوسرا تیس کا، اور بعض نے کہا: مطلب یہ ہے کہ گو ان مہینوں کے دن کم ہوں لیکن اجر و ثواب کم نہیں ہوتا، تیس دن کا ثواب ملتا ہے اور یہی صحیح ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1659
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
حدیث تخریج « صحیح البخاری/الصوم 12 ( 1912 ) ، صحیح مسلم/الصوم 7 ( 1089 ) ، سنن ابی داود/الصوم 4 ( 2323 ) ، سنن الترمذی/الصوم 8 ( 692 ) ، ( تحفة الأشراف : 11677 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/38 ، 47 ، 50 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1660
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي عُمَرَ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْفِطْرُ يَوْمَ تُفْطِرُونَ ، وَالْأَضْحَى يَوْمَ تُضَحُّونَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عید الفطر وہ دن ہے جس میں تم لوگ روزہ توڑ دیتے ہو ، اور عید الاضحی وہ دن ہے جس میں تم لوگ قربانی کرتے ہو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ جب مسلمان عید کریں تو ہر ایک کو اس میں شریک ہو جانا چاہئے، جماعت سے الگ رہ کر اپنی عید علیحدہ کرنا اور چاند کی تحقیق میں مبالغہ کرنا ضروری نہیں ہے، ہماری عید جماعت کی عید کے ساتھ پوری ہو جائے گی، اور جس نے جھوٹ بولا یا جھوٹی گواہی دی اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1660
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 14428 ) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الصوم 5 ( 2324 ) ، سنن الترمذی/الصوم 11 ( 697 ) ( صحیح ) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔