حدیث نمبر: 1656
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَمْ مَضَى مِنَ الشَّهْرِ ؟ " ، قَالَ : قُلْنَا : اثْنَانِ وَعِشْرُونَ وَبَقِيَتْ ثَمَانٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشَّهْرُ هَكَذَا ، وَالشَّهْرُ هَكَذَا ، وَالشَّهْرُ هَكَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، وَأَمْسَكَ وَاحِدَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مہینہ میں کتنے دن گزرے ہیں ؟ “ ہم نے عرض کیا : بائیس دن گزرے ہیں اور آٹھ دن باقی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مہینہ اتنا ، اتنا اور اتنا ہے ، اور تیسری بار ایک انگلی بند کر لی “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: آپ ﷺ نے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے تین بار اشارہ فرمایا، اور تیسری بار میں ایک انگلی بند کرلی تو ۲۹ دن ہوئے، مطلب آپ کا یہ تھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جو کہا کہ ۲۲ دن گزرے ہیں اور آٹھ دن باقی ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ مہینہ تیس دن کا ہوتا ہے، یہ بات نہیں ہے، ۲۹ دن کا بھی ہوتا ہے، اور نبی کریم ﷺ نے ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے ایک ماہ کے لئے ایلا کیا تھا، پھر ۲۹ دن کے بعد ان کے پاس آ گئے، اس سے معلوم ہوا کہ اگر ایک مہینہ تک کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کے لئے قسم کھائے تو ۲۹ دن قسم پر عمل کرنا کافی ہے۔
حدیث نمبر: 1657
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشَّهْرُ هَكَذَا ، وَهَكَذَا ، وَهَكَذَا ، وَعَقَدَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ فِي الثَّالِثَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مہینہ اتنا ، اتنا اور اتنا ہے ، تیسری دفعہ میں ۲۹ کا عدد بنایا “ ۔
حدیث نمبر: 1658
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " مَا صُمْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرُ مِمَّا صُمْنَا ثَلَاثِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بہ نسبت ۳۰ دن کے زیادہ تر انتیس دن کے روزے رکھے ہیں ۔