مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: رمضان سے ایک روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت اگر کوئی شخص پہلے سے روزہ رکھتا چلا آیا ہو تو جائز ہے۔
حدیث نمبر: 1650
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبٍ ، وَالْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقَدَّمُوا صِيَامَ رَمَضَانَ بِيَوْمٍ وَلَا بِيَوْمَيْنِ ، إِلَّا رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمًا فَيَصُومُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رمضان سے ایک دن یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھو ، الا یہ کہ کوئی آدمی پہلے سے روزے رکھ رہا ہو تو وہ اسے رکھے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: مثلاً پہلے سے جمعرات یا سوموار (پیر) کے روزے رکھنے کا معمول ہو، اور یہ دن اتفاق سے رمضان سے دو یا ایک دن پہلے آ جائے تو اس کا روزہ رکھے کیونکہ یہ روزہ رمضان کے استقبال کے لیے نہیں ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1650
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
حدیث تخریج « سنن النسائی/الصوم 31 ( 2171 ، 2172 ) ، 38 ( 2189 ) ، ( تحفة الأشراف : 15391 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الصوم 14 ( 1914 ) ، صحیح مسلم/الصوم 3 ( 1082 ) ، سنن ابی داود/الصوم 11 ( 2335 ) ، سنن الترمذی/الصوم 2 ( 685 ) ، مسند احمد ( 3/234 ، 347 ، 408 ، 438 ، 7 7 4 ، 497 ، 513 ) ، سنن الدارمی/الصوم 4 ( 1731 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1651
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ . ح وحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ النِّصْفُ مِنْ شَعْبَانَ فَلَا صَوْمَ حَتَّى يَجِيءَ رَمَضَانُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب نصف شعبان ہو جائے ، تو روزے نہ رکھو ، جب تک کہ رمضان نہ آ جائے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ بات عام امت کے لئے ہے، نبی اکرم ﷺ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ شعبان کے روزوں کو رمضان سے ملا دیا کرتے تھے کیونکہ آپ کو روحانی قوت حاصل تھی اس لئے روزہ آپ کے لئے کمزوری کا سبب نہیں بنتا تھا، لیکن امت کے لئے حکم یہ ہے کہ وہ نصف ثانی میں روزہ نہ رکھیں تاکہ ان کی قوت و توانائی رمضان کے روزوں کے لئے برقرار رہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1651
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج « سنن ابی داود/الصوم 12 ( 2337 ) ، سنن الترمذی/الصوم 38 ( 738 ) ، ( تحفة الأشراف : 14051 ، 14095 ) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/الصوم 34 ( 1781 ) ( صحیح ) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔