مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: شعبان کے روزوں کو رمضان کے روزوں سے ملانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1648
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کو رمضان سے ملا دیتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1648
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج « سنن الترمذی/الصوم 37 ( 736 ) ، سنن النسائی/الصیام 19 ( 2178 ) ، 70 ( 2354 ، 2355 ) ، ( تحفة الأشراف : 18232 ) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الصوم 11 ( 2336 ) ، مسند احمد ( 6/300 ، 311 ) ، سنن الدارمی/الصوم 33 ( 1780 ) ( صحیح ) ( ملاحظہ ہو : صحیح ابی داود : 2024 ) »
حدیث نمبر: 1649
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ الْغَازِ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، فَقَالَتْ : " كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ حَتَّى يَصِلَهُ بِرَمَضَانَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ربیعہ بن الغاز سے روایت ہے کہ` انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے سلسلے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورے شعبان روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ اسے رمضان سے ملا دیتے تھے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: پورے شعبان روزے رکھنے کے معنی یہ ہیں کہ آپ ﷺ شعبان میں روزے زیادہ رکھتے تھے کیونکہ اس مہینہ میں اعمال رب العالمین کی بارگاہ میں پیش کئے جاتے ہیں،اور آپ کو یہ بات بےحد پسند تھی کہ جب آپ کے اعمال بارگاہ الٰہی میں پیش ہوں تو آپ روزے کی حالت میں ہوں۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1649
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج « سنن الترمذی/الصیام 44 ( 745 مختضراً ) ، سنن النسائی/الصیام 19 ( 2188 ) ، ( تحفة الأشراف : 16081 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الصوم 52 ( 970 ) ، صحیح مسلم/الصیام 3 ( 1082 ) ، موطا امام مالک/الصیام 22 ( 56 ) ، مسند احمد ( 6/80 ، 89 ، 106 ) ( یہ حدیث مکرر ہے ، دیکھئے : 1739 ) ( حسن صحیح ) ( صحیح أبی داود : 2101 ) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔