مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: شک کے دن کے روزے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1645
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ عَمَّارٍ فِي الْيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ ، فَأُتِيَ بِشَاةٍ فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ ، فَقَالَ عَمَّارٌ : " مَنْ صَامَ هَذَا الْيَوْمَ فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´صلہ بن زفر کہتے ہیں کہ` ہم شک والے دن میں عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے پاس تھے ان کے پاس ایک بھنی ہوئی بکری لائی گئی بعض لوگ اس کو دیکھ کر الگ ہو گئے ، ( کیونکہ وہ روزے سے تھے ) عمار رضی اللہ عنہ نے کہا : جس نے ایسے دن میں روزہ رکھا اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: شک والے دن سے مراد ۳۰ شعبان کا دن ہے یعنی بادلوں کی وجہ سے ۲۹ ویں کو چاند نظر نہ آیا ہو تو پتہ نہیں چلتا کہ یہ شعبان کا تیسواں دن ہے یا رمضان کا پہلا دن اسی وجہ سے اسے شک کا دن کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1645
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سنن أبي داود (2334) ترمذي (686) نسائي (2190), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 439
حدیث تخریج « صحیح البخاری/الصوم 11 ( 1906 ) ، ( تعلیقا ) سنن ابی داود/الصوم 10 ( 2334 ) ، سنن الترمذی/الصوم 3 ( 686 ) ، سنن النسائی/الصیام 20 ( 2190 ) ، ( تحفة الأشراف : 10354 ) وقد أخرجہ : سنن الدارمی/الصوم 1 ( 1724 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1646
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَعْجِيلِ صَوْمِ يَوْمٍ قَبْلَ الرُّؤْيَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند دیکھنے سے ایک روز پہلے روزہ رکھنے سے منع فرمایا ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1646
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدًا, عبداﷲ بن سعيد المقبري: متروك, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 439
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 14339 ، ومصباح الزجاجة : 599 ) ( صحیح ) » ( سند میں عبد اللہ بن سعید المقبری ضعیف ہے ، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے ، صحیح ابو داود : 2015 )
حدیث نمبر: 1647
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ قَبْلَ شَهْرِ رَمَضَانَ : " الصِّيَامُ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا ، وَنَحْنُ مُتَقَدِّمُونَ ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيَتَقَدَّمْ ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيَتَأَخَّرْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما منبر پر کہہ رہے تھے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان سے پہلے منبر پر فر مار ہے تھے : ” روزہ فلاں فلاں دن شروع ہو گا ، اور ہم اس سے پہلے سے روزہ رکھنے والے ہیں لہٰذا جس کا جی چاہے پہلے سے روزہ رکھے ، اور جس کا جی چا ہے مؤخر کرے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی رمضان کا دن آ جائے تب روزہ شروع کرے، واضح رہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے، مسئلہ کے لیے حدیث نمبر (۱۶۵۰) کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیں۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1647
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف مع مخالفته لحديث أبي هريرة , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, العلاء بن الحارث اختلط (تقريب: 5230), والحديث شاذ،غريب جدًا،انظرالحديث الآتي (الأصل:1650), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 439
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 11436 ، ومصباح الزجاجة : 600 ) ( ضعیف ) » ( سند میں ھیثم بن حمید ضعیف ہے ، نیز ( 1650 ) نمبر پر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے یہ مخالف ہے )

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔