مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: ماہ رمضان کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 1641
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے روزہ رکھا ، اس کے اگلے گناہ بخش دئیے جائیں گے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1641
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
حدیث تخریج « صحیح البخاری/الإیمان 27 ( 38 ) ، الصوم 6 ( 1901 ) ، التراویح 1 ( 2009 ) ، سنن النسائی/قیام اللیل 3 ( 1604 ) ، الصوم 22 ( 2196 ) الإیمان 21 ( 5027 ) ، 22 ( 5030 ) ، ( تحفة الأشراف : 15353 ) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/المسافرین 25 ( 760 ) ، سنن ابی داود/الصلاة 318 ( 1371 ) ، سنن الترمذی/الصوم 1 ( 683 ) ، 83 ( 808 ) ، موطا امام مالک/الصلاة في رمضان 1 ( 2 ) ، مسند احمد ( 2/241 ، 281 ، 289 ، 408 ، 423 ، 473 ، 486 ، 503 ، 529 ، سنن الدارمی/الصوم 54 ( 1817 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1642
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا كَانَتْ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ صُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ ، وَمَرَدَةُ الْجِنِّ ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ ، فَلَمْ يُفْتَحْ مِنْهَا بَابٌ ، وَفُتِحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ ، فَلَمْ يُغْلَقْ مِنْهَا بَابٌ ، وَنَادَى مُنَادٍ يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ أَقْبِلْ ، وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ ، وَلِلَّهِ عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ ، وَذَلِكَ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیطان اور سرکش جن زنجیروں میں جکڑ دئیے جاتے ہیں ، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں ، اور اس کا کوئی بھی دروازہ کھلا ہوا نہیں رہتا ، جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ، اور اس کا کوئی بھی دروازہ بند نہیں رہتا ، منادی پکارتا ہے : اے بھلائی کے چاہنے والے ! بھلائی کے کام پہ آگے بڑھ ، اور اے برائی کے چاہنے والے ! اپنی برائی سے رک جا ، کچھ لوگوں کو اللہ جہنم کی آگ سے آزاد کرتا ہے ، اور یہ ( رمضان کی ) ہر رات کو ہوتا ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہی وجہ ہے کہ رمضان میں اہل ایمان کی توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف بڑھ جاتی ہے، اور وہ اس میں تلاوت قرآن، ذکر و عبادت اور توبہ و استغفار کا خصوصی اہتمام کرنے لگتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1642
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (682), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 439
حدیث تخریج « سنن الترمذی/الصوم 1 ( 682 ) ، ( تحفة الأشراف : 12490 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الصوم 5 ( 1898 ، 1899 ) ، بدأالخلق 11 ( 3677 ) ، صحیح مسلم/الصوم 1 ( 1079 ) ، سنن النسائی/الصیام 3 ( 2099 ) ، موطا امام مالک/الصیام 22 ( 59 ) ، مسند احمد ( 2/281 ، 282 ، 357 ، 378 ، 401 ) ، سنن الدارمی/الصوم 53 ( 1816 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1643
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِلَّهِ عِنْدَ كُلِّ فِطْرٍ عُتَقَاءَ وَذَلِكَ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ ہر افطار کے وقت کچھ لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے اور یہ ( رمضان کی ) ہر رات کو ہوتا ہے ۔‏‏‏‏“
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1643
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سليمان الأعمش عنعن, و للحديث شواھد ضعيفة (انظر الترغيب والترهيب 2/ 103۔104), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 439
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 2335 ، ومصباح الزجاجة : 597 ) ( حسن صحیح ) » ( حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے ، نیز ملاحظہ ہو : صحیح الترغیب : 991 - 992 ، صحیح ابن خزیمہ : 1883 )
حدیث نمبر: 1644
حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : دَخَلَ رَمَضَانُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذَا الشَّهْرَ قَدْ حَضَرَكُمْ وَفِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ ، مَنْ حُرِمَهَا فَقَدْ حُرِمَ الْخَيْرَ كُلَّهُ ، وَلَا يُحْرَمُ خَيْرَهَا إِلَّا مَحْرُومٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رمضان آیا تو رسول کرام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ مہینہ آ گیا اور اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ، جو اس سے محروم رہا وہ ہر طرح کے خیر ( بھلائی ) سے محروم رہا ، اور اس کی بھلائی سے محروم وہی رہے گا جو ( واقعی ) محروم ہو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1644
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, قتادة عنعن, ولحديثه شاھد منقطع (سنن النسائي: 2108) و مرسل (مصنف عبدالرزاق: 7383), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 439
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 1324 ، ومصباح الزجاجة : 598 ) ( حسن صحیح ) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔