مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: پردیس میں موت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1613
حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ الْهُذَيْلُ بْنُ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَوْتُ غُرْبَةٍ شَهَادَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پردیسی کی موت شہادت ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1613
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الهذيل بن الحكم: لين الحديث (تقريب: 7271), أي: ضعيف وللحديث شواهد كلھا ضعيفة, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 437
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 6147 ، ومصباح الزجاجة : 587 ) ( ضعیف ) » ( ہذیل بن الحکم منکر الحدیث ہیں )
حدیث نمبر: 1614
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : تُوُفِّيَ رَجُلٌ بِالْمَدِينَةِ مِمَّنْ وُلِدَ بِالْمَدِينَةِ فَصَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا لَيْتَهُ مَاتَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِهِ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ : وَلِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا مَاتَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِهِ ، قِيسَ لَهُ مِنْ مَوْلِدِهِ إِلَى مُنْقَطَعِ أَثَرِهِ فِي الْجَنَّةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` مدینہ ہی میں پیدا ہونے والے ایک شخص کا مدینہ میں انتقال ہو گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور فرمایا : ” کاش کہ اپنی جائے پیدائش کے علاوہ سر زمین میں انتقال کیا ہوتا “ ایک شخص نے پوچھا : کیوں اے اللہ کے رسول ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب آدمی کا انتقال اپنی جائے پیدائش کے علاوہ مقام میں ہوتا ہے ، تو اس کی پیدائش کے مقام سے لے کر موت کے مقام تک جنت میں اس کو جگہ دی جاتی ہے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: یہاں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے کہ جنت میں ادنی جنتی کو اس دنیا کے برابر جگہ ملے گی جیسے دوسری حدیث میں وارد ہے پھر اس حدیث کا مطلب کیا ہو گا۔بعض نے کہا: یہاں جنت سے مراد قبر ہے، اس کی قبر میں اتنی وسعت ہو جائے گی۔ بعض نے کہا: یہ ثواب کا اندازہ ہے یعنی اتنا ثواب ملے گا جو پیدائش سے لے کر موت کے مقام تک سما جائے۔ «واللہ اعلم» ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1614
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
حدیث تخریج « سنن النسائی/الجنائز 8 ( 1833 ) ، ( تحفة الأشراف : 8856 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/177 ) ( حسن ) » ( سند میں حُيَيُّ بن عبد اللہ المعافری ضعیف ہیں ، اور ان کی احادیث منکر ہیں ، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے )

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔