مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: میت کے گھر والوں کے پاس جمع ہونا اور کھانا تیار کرنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 1612
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ . ح وحَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو الْفَضْلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ ، قَالَ : " كُنَّا نَرَى الِاجْتِمَاعَ إِلَى أَهْلِ الْمَيِّتِ وَصَنْعَةَ الطَّعَامِ مِنَ النِّيَاحَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم میت کے گھر والوں کے پاس جمع ہونے اور ان کے لیے ان کے گھر کھانا تیار کرنے کو نوحہ سمجھتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1612
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, إسماعيل بن أبي خالد مدلس و عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 437
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 3230 ، ومصباح الزجاجة : 586 ) ، مسند احمد ( 2/204 ) ( صحیح ) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔