مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: میت کے گھر والوں کے یہاں کھانا بھیجنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1610
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : لَمَّا جَاءَ نَعْيُ جَعْفَرٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اصْنَعُوا لِآلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا فَقَدْ أَتَاهُمْ مَا يَشْغَلُهُمْ ، أَوْ أَمْرٌ يَشْغَلُهُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` جعفر کی موت کی جب خبر آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو ، اس لیے کہ ان کے پاس ایسی خبر آئی ہے جس نے ان کو مشغول کر دیا ہے ، یا ان کے پاس ایسا معاملہ آ پڑا ہے جو ان کو مشغول کئے ہوئے ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1610
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
حدیث تخریج « سنن ابی داود/الجنائز 26 ( 3132 ) ، سنن الترمذی/الجنائز 21 ( 998 ) ، ( تحفة الأشراف : 5217 ) ( حسن ) »
حدیث نمبر: 1611
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أُمِّ عِيسَى الْجَزَّارِ ، قَالَتْ : حَدَّثَتْنِي أُمُّ عَوْنٍ ابْنَةُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ جَدَّتِهَا أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ، قَالَتْ : لَمَّا أُصِيبَ جَعْفَرٌ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِهِ ، فَقَالَ : " إِنَّ آلَ جَعْفَرٍ قَدْ شُغِلُوا بِشَأْنِ مَيِّتِهِمْ ، فَاصْنَعُوا لَهُمْ طَعَامًا " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَمَا زَالَتْ سُنَّةً حَتَّى كَانَ حَدِيثًا فَتُرِكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` جب جعفر رضی اللہ عنہ قتل کر دئیے گئے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کے پاس آئے ، اور فرمایا : ” جعفر کے گھر والے اپنی میت کے مسئلہ میں مشغول ہیں ، لہٰذا تم لوگ ان کے لیے کھانا بناؤ “ ۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ طریقہ برابر چلا آ رہا تھا یہاں تک کہ اس میں بدعت آ داخل ہوئی ، تو اسے چھوڑ دیا گیا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ میت والوں کو کھانا بھیجنا پہلے سنت تھا پھر لوگوں نے اس میں فخر و مباہات کے جذبہ سے تکلف شروع کیا اور بلاضرورت انواع و اقسام کے کھانے پکا کر بھیجنے لگے، دوسرے یہ کہ میت والوں کے پاس ساری برادری اور کنبے والوں نے جمع ہونا شروع کیا، اور کھانا بھیجنے والوں کو ان سب لوگوں کے موافق کھانا بھیجنا پڑا۔ اس لئے یہ امر بدعت سمجھ کر ترک کر دیا گیا، چنانچہ امام احمد اور ابن ماجہ نے باسناد صحیح جریر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ہم میت والوں کے پاس جمع ہونا، اور میت کے دفن کے بعد کھانا بھیجنا دونوں کو نوحہ میں شمار کرتے تھے، اس پر بھی صحابی یا تابعی کا قول حدیث مرفوع کے مقابل نہیں ہو سکتا، اور محدثین نے میت والوں کے پاس کھانا بھیجنا مستحب رکھا ہے۔ «واللہ اعلم» ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1611
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, أم عون: مقبولة (مستورة الحال) وأم عيسي (الخزاعية) الجزار: لا يعرف حالھا (تقريب:8750،8754), والحديث السابق (الأصل: 1610) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 437
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 1576 ، ومصباح الزجاجة : 585 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 6/370 ) ( حسن ) » ( سند میں ام عیسیٰ اور ام عون مجہول ہیں ، لیکن شاہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے )

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔