مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: مصیبت پر صبر کرنے کا ثواب۔
حدیث نمبر: 1596
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صبر تو وہ ہے جو مصیبت کے اول وقت میں ہو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1596
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
حدیث تخریج « سنن الترمذی/الجنائز 13 ( 988 ) ، ( تحفة الأشراف : 848 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الجنائز 31 ( 1283 ) ، 42 ( 1302 ) ، الأحکام 11 ( 7154 ) ، صحیح مسلم/الجنائز 8 ( 926 ) ، سنن ابی داود/الجنائز 27 ( 3124 ) ، سنن النسائی/الجنائز 22 ( 1870 ) ، مسند احمد ( 3/130 ، 143 ، 217 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1597
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَقُولُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ : ابْنَ آدَمَ إِنْ صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى ، لَمْ أَرْضَ لَكَ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے آدمی ! اگر تم مصیبت پڑتے ہی صبر کرو ، اور ثواب کی نیت رکھو ، تو میں جنت سے کم ثواب پر تمہارے لیے راضی نہیں ہوں گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1597
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 4911 ، ومصباح الزجاجة : 577 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/258 ) ( حسن ) » ( شواہد کی بنا پر حسن ہے )
حدیث نمبر: 1598
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهَا ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَابُ بِمُصِيبَةٍ ، فَيَفْزَعُ إِلَى مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ مِنْ قَوْلِهِ : إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ، اللَّهُمَّ عِنْدَكَ احْتَسَبْتُ مُصِيبَتِي فَأْجُرْنِي فِيهَا وَعُضْنِي مِنْهَا ، إِلَّا آجَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهَا وَعَاضَهُ خَيْرًا مِنْهَا " ، قَالَتْ : فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ ، ذَكَرْتُ الَّذِي حَدَّثَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ، اللَّهُمَّ عِنْدَكَ احْتَسَبْتُ مُصِيبَتِي هَذِهِ فَأْجُرْنِي عَلَيْهَا ، فَإِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ : وَعِضْنِي خَيْرًا مِنْهَا ، قُلْتُ فِي نَفْسِي : أُعَاضُ خَيْرًا مِنْ أَبِي سَلَمَةَ ، ثُمَّ قُلْتُهَا ، فَعَاضَنِي اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَآجَرَنِي فِي مُصِيبَتِي .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا : انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جس مسلمان کو کوئی مصیبت پیش آئے ، تو وہ گھبرا کر اللہ کے فرمان کے مطابق یہ دعا پڑھے : «إنا لله وإنا إليه راجعون اللهم عندك احتسبت مصيبتي فأجرني فيها وعضني منها» ” ہم اللہ ہی کی ملک ہیں اور اسی کی جانب لوٹ کر جانے والے ہیں ، اے اللہ ! میں نے تجھی سے اپنی مصیبت کا ثواب طلب کیا ، تو مجھے اس میں اجر دے ، اور مجھے اس کا بدلہ دے “ جب یہ دعا پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ اس کا اجر دے گا ، اور اس سے بہتر اس کا بدلہ عنایت کرے گا “ ۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : جب ( میرے شوہر ) ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ، تو مجھے وہ حدیث یاد آئی ، جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر مجھ سے بیان کی تھی ، چنانچہ میں نے کہا : «إنا لله وإنا إليه راجعون اللهم عندك احتسبت مصيبتي فأجرني فيها وعضني منها» اور جب «وعضني خيرا منها» ” مجھے اس سے بہتر بدلا دے “ کہنے کا ارادہ کیا تو دل میں سوچا : کیا مجھے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر بدلہ دیا جا سکتا ہے ؟ پھر میں نے یہ جملہ کہا ، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے بدلہ میں دے دیا اور میری مصیبت کا بہترین اجر مجھے عنایت فرمایا ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1598
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
حدیث تخریج « سنن الترمذی/الدعوات 84 ( 3511 ) ، ( تحفة الأشراف : 6577 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/27 ) ( صحیح ) » ( سند میں عبد الملک بن قدامہ ضعیف ہیں ، لیکن دوسرے طریق سے یہ صحیح ہے )
حدیث نمبر: 1599
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السُّكَيْنِ ، حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ ، أَوْ كَشَفَ سِتْرًا ، فَإِذَا النَّاسُ يُصَلُّونَ وَرَاءَ أَبِي بَكْرٍ ، فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى مَا رَأَى مِنْ حُسْنِ حَالِهِمْ ، رَجَاءَ أَنْ يَخْلُفَهُ اللَّهُ فِيهِمْ بِالَّذِي رَآهُمْ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَيُّمَا أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ ، أَوْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أُصِيبَ بِمُصِيبَةٍ ، فَلْيَتَعَزَّ بِمُصِيبَتِهِ بِي عَنِ الْمُصِيبَةِ الَّتِي تُصِيبُهُ بِغَيْرِي ، فَإِنَّ أَحَدًا مِنْ أُمَّتِي لَنْ يُصَابَ بِمُصِيبَةٍ بَعْدِي أَشَدَّ عَلَيْهِ مِنْ مُصِيبَتِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مرض الموت میں ) ایک دروازہ کھولا جو آپ کے اور لوگوں کے درمیان تھا ، یا پردہ ہٹایا تو دیکھا کہ لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اچھی حالت میں دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کیا ، اور امید کی کہ اللہ تعالیٰ اس عمل کو ان کے درمیان آپ کے انتقال کے بعد بھی باقی رکھے گا ، اور فرمایا : ” اے لوگو ! لوگوں میں سے یا مومنوں میں سے جو کوئی کسی مصیبت میں مبتلا ہو جائے ، تو وہ میری وفات کی مصیبت کو یاد کر کے صبر کرے ، اس لیے کہ میری امت میں سے کسی کو میرے بعد ایسی مصیبت نہ ہو گی جو میری وفات کی مصیبت سے اس پر زیادہ سخت ہو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس لئے کہ مومن وہی ہے جس کو نبی کریم ﷺ کی محبت اولاد اور والدین اور سارے رشتہ داروں سے زیادہ ہو، پس جب وہ نبی کریم ﷺ کی وفات کو یاد کرے گا تو ہر طرح کے رشتہ داروں اور دوست و احباب کی موت اس کے سامنے بے حقیقت ہو گی۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1599
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, موسي بن عبيدة: ضعيف, ولحديثه شواھدضعيفة, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 436
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 17774 ، ومصباح الزجاجة : 578 ) ( صحیح ) » ( سند میں موسیٰ بن عبیدہ ضعیف راوی ہیں ، لیکن دوسرے طریق سے یہ صحیح ہے ، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة ، للالبانی : 1106 )
حدیث نمبر: 1600
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ أَبِيهَا ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أُصِيبَ بِمُصِيبَةٍ ، فَذَكَرَ مُصِيبَتَهُ ، فَأَحْدَثَ اسْتِرْجَاعًا وَإِنْ تَقَادَمَ عَهْدُهَا ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلَهُ يَوْمَ أُصِيبَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حسین بن علی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جسے کوئی مصیبت پیش آئی ہو ، پھر وہ اسے یاد کر کے نئے سرے سے : «إنا لله وإنا إليه راجعون» کہے ، اگرچہ مصیبت کا زمانہ پرانا ہو گیا ہو ، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اتنا ہی ثواب لکھے گا جتنا اس دن لکھا تھا جس دن اس کو یہ مصیبت پیش آئی تھی ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: مثلاً نبی کریم ﷺ کی وفات کی مصیبت یاد کرکے ہم اس وقت «إنا لله وإنا إليه راجعون» کہیں تو وہی ثواب ہم کو ملے گا جو صحابہ کو نبی کریم ﷺ کی وفات کے وقت ملا تھا، بعض لوگوں نے کہا کہ حدیث خاص ہے اس مصیبت سے جو خود اسی شخص پر گزر چکی ہو۔ واللہ اعلم
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1600
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف جدا , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدًا, ھشام بن زياد: متروك, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 436
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 3414 ، ومصباح الزجاجة : 579 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/201 ) ( ضعیف جدا ) » ( سند میں ہشام بن زیاد متروک اور ان کی والدہ مجہول ہیں ، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 4551 )

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔