مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: میت پر نوحہ خوانی سے اس کو عذاب ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 1593
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَاذَانُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میت پر نوحہ کرنے کی وجہ سے اسے عذاب دیا جاتا ہے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: میت پر آواز کے ساتھ رونے کو نوحہ کہتے ہیں۔ یہ عذاب اس شخص پر ہو گا جو اپنے ورثاء کو اس کی وصیت کر کے مرا ہو یا اس کا عمل بھی زندگی میں ایسا ہی رہا ہو اور اس کی پیروی میں اس کے گھر والے بھی اس پر نوحہ کر رہے ہوں۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1593
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
حدیث تخریج « صحیح البخاری/الجنائز 33 ( 1292 ) ، صحیح مسلم/الجنائز 9 ( 927 ) ، سنن النسائی/الجنائز 15 ( 1854 ) ، ( تحفة الأشراف : 10536 ) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الجنائز 24 ( 1002 ) ، مسند احمد ( 1/26 ، 36 ، 47 ، 50 ، 51 ، 54 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1594
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَسِيدُ بْنُ أَبِي أَسِيدٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ إِذَا قَالُوا : وَاعَضُدَاهُ ، وَاكَاسِيَاهُ ، وَانَاصِرَاهُ ، وَاجَبَلَاهُ ، وَنَحْوَ هَذَا يُتَعْتَعُ ، وَيُقَالُ : أَنْتَ كَذَلِكَ أَنْتَ كَذَلِكَ " ، قَالَ أَسِيدٌ : فَقُلْتُ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، إِنَّ اللَّهَ ، يَقُولُ : وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة الأنعام آية 164 ، قَالَ : وَيْحَكَ ، أُحَدِّثُكَ أَنَّ أَبَا مُوسَى ، حَدَّثَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَرَى أَنَّ أَبَا مُوسَى كَذَبَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ تَرَى أَنِّي كَذَبْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مردے کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے ، جب لوگ کہتے ہیں : «واعضداه واكاسياه. واناصراه واجبلاه» ” ہائے میرے بازو ، ہائے میرے کپڑے پہنانے والے ، ہائے میری مدد کرنے والے ، ہائے پہاڑ جیسے قوی و طاقتور “ اور اس طرح کے دوسرے کلمات ، تو اسے ڈانٹ کر کہا جاتا ہے : کیا تو ایسا ہی تھا ؟ کیا تو ایسا ہی تھا ؟ “ اسید کہتے ہیں کہ میں نے کہا : سبحان اللہ ، اللہ تعالیٰ تو یہ فرماتا ہے : «ولا تزر وازرة وزر أخرى» ” کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا “ تو انہوں ( موسیٰ ) نے کہا : تمہارے اوپر افسوس ہے ، میں تم سے بیان کرتا ہوں کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان فرمائی ، تو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھا ہے ؟ یا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ پر جھوٹ باندھا ہے ؟ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1594
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 9031 ، ومصباح الزجاجة : 576 ) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الجنائز 24 ( 1003 ) ، مسند احمد ( 4/ 414 ) ( حسن ) »
حدیث نمبر: 1595
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : إِنَّمَا كَانَتْ يَهُودِيَّةٌ مَاتَتْ ، فَسَمِعَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكُونَ عَلَيْهَا ، قَالَ : " فَإِنَّ أَهْلَهَا يَبْكُونَ عَلَيْهَا ، وَإِنَّهَا تُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` ایک یہودی عورت کا انتقال ہو گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو اس پر روتے ہوئے سنا ، تو فرمایا : ” اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں جب کہ اسے قبر میں عذاب ہو رہا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1595
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 16259 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الجنائز 32 ( 1289 ) ، صحیح مسلم/الجنائز9 ( 932 ) ، سنن الترمذی/الجنائز 25 ( 1004 ) ، سنن النسائی/الجنائز15 ( 1857 ) ، موطا امام مالک/الجنائز12 ( 37 ) ، مسند احمد ( 6/107 ، 255 ) ( صحیح ) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔