حدیث نمبر: 1577
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : " نُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` ہم عورتوں کو جنازے کے ساتھ جانے سے منع کر دیا گیا ، لیکن ہمیں تاکیدی طور پر نہیں روکا گیا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ یہ ممانعت تنزیہی ہے، یعنی جنازہ میں نہ جانا زیادہ بہتر ہے، جمہور علماء کا یہی قول ہے، اور بعضوں کے نزدیک یہ امر حرام ہے۔
حدیث نمبر: 1578
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ سَلْمَانَ ، عَنْ دِينَارٍ أَبِي عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا نِسْوَةٌ جُلُوسٌ ، فَقَالَ : " مَا يُجْلِسُكُنَّ ؟ " ، قُلْنَ : نَنْتَظِرُ الْجِنَازَةَ ، قَالَ : " هَلْ تَغْسِلْنَ ؟ " ، قُلْنَ : لَا ، قَالَ : " هَلْ تَحْمِلْنَ ؟ " ، قُلْنَ : لَا ، قَالَ : " هَلْ تُدْلِينَ فِيمَنْ يُدْلِي ؟ " ، قُلْنَ : لَا ، قَالَ : " فَارْجِعْنَ مَأْزُورَاتٍ غَيْرَ مَأْجُورَاتٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور کئی عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں ، آپ نے پوچھا : ” تم لوگ کیوں بیٹھی ہوئی ہو “ ؟ انہوں نے کہا : ہم جنازے کا انتظار کر رہی ہیں ، آپ نے پوچھا : ” کیا تم لوگ جنازے کو غسل دو گی “ ؟ انہوں نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا اسے اٹھاؤ گی “ ؟ انہوں نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تم بھی ان لوگوں کے ساتھ جنازہ قبر میں اتارو گی جو اسے اتاریں گے “ ؟ انہوں نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ گناہ گار ہو کر ثواب سے خالی ہاتھ ( اپنے گھروں کو ) واپس جاؤ “ ۔