مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: عورتوں کے جنازے کے ساتھ جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1577
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : " نُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` ہم عورتوں کو جنازے کے ساتھ جانے سے منع کر دیا گیا ، لیکن ہمیں تاکیدی طور پر نہیں روکا گیا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ یہ ممانعت تنزیہی ہے، یعنی جنازہ میں نہ جانا زیادہ بہتر ہے، جمہور علماء کا یہی قول ہے، اور بعضوں کے نزدیک یہ امر حرام ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1577
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
حدیث تخریج « صحیح البخاری/الجنائز29 ( 1278 ) ، صحیح مسلم/الجنائز11 ( 938 ) ، ( تحفة الأشراف : 18139 ) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الجنائز 44 ( 3167 ) ، مسند احمد ( 6/408 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1578
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ سَلْمَانَ ، عَنْ دِينَارٍ أَبِي عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا نِسْوَةٌ جُلُوسٌ ، فَقَالَ : " مَا يُجْلِسُكُنَّ ؟ " ، قُلْنَ : نَنْتَظِرُ الْجِنَازَةَ ، قَالَ : " هَلْ تَغْسِلْنَ ؟ " ، قُلْنَ : لَا ، قَالَ : " هَلْ تَحْمِلْنَ ؟ " ، قُلْنَ : لَا ، قَالَ : " هَلْ تُدْلِينَ فِيمَنْ يُدْلِي ؟ " ، قُلْنَ : لَا ، قَالَ : " فَارْجِعْنَ مَأْزُورَاتٍ غَيْرَ مَأْجُورَاتٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور کئی عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں ، آپ نے پوچھا : ” تم لوگ کیوں بیٹھی ہوئی ہو “ ؟ انہوں نے کہا : ہم جنازے کا انتظار کر رہی ہیں ، آپ نے پوچھا : ” کیا تم لوگ جنازے کو غسل دو گی “ ؟ انہوں نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا اسے اٹھاؤ گی “ ؟ انہوں نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تم بھی ان لوگوں کے ساتھ جنازہ قبر میں اتارو گی جو اسے اتاریں گے “ ؟ انہوں نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ گناہ گار ہو کر ثواب سے خالی ہاتھ ( اپنے گھروں کو ) واپس جاؤ “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1578
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, إسماعيل بن سلمان بن أبي المغيرة الكوفي: ضعيف (تقريب: 450), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 435
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 10269 ، ومصباح الزجاجة : 566 ) ( ضعیف ) » ( اس کی سند میں دینار ابو عمر اور اسماعیل بن سلمان ضعیف ہیں ، ابن الجوزی نے اس حدیث کو العلل المتناہیہ میں ذکر کیا ہے ، نیز ملاحظہ ہو : 1لضعیفہ : 2742 )

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔