مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: کفار و مشرکین کی قبروں کی زیارت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1572
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " زَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ فَبَكَى ، وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ ، فَقَالَ : اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَلَمْ يَأْذَنْ لِي ، وَاسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأَذِنَ لِي ، فَزُورُوا الْقُبُورَ ، فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمَ الْمَوْتَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی تو آپ روئے ، اور آپ کے گرد جو لوگ تھے انہیں بھی رلایا ، اور فرمایا : ” میں نے اپنے رب سے اجازت مانگی کہ اپنی ماں کے لیے استغفار کروں ، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کی اجازت نہیں دی ، اور میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت مانگی تو اس نے مجھے اجازت دے دی ، لہٰذا تم قبروں کی زیارت کیا کرو اس لیے کہ وہ موت کو یاد دلاتی ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1572
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج « صحیح مسلم/الجنائز 36 ( 976 ) ، سنن ابی داود/الجنائز81 ( 3234 ) ، سنن النسائی/الجنائز 101 ( 2036 ) ، ( تحفة الأشراف : 13439 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/441 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1573
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ ، وَكَانَ وَكَانَ فَأَيْنَ هُوَ ؟ ، قَالَ : " فِي النَّارِ " ، قَالَ : فَكَأَنَّهُ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَيْنَ أَبُوكَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَيْثُمَا مَرَرْتَ بِقَبْرِ كَافِرٍ ، فَبَشِّرْهُ بِالنَّارِ " ، قَالَ : فَأَسْلَمَ الْأَعْرَابِيُّ بَعْدُ ، وَقَالَ : لَقَدْ كَلَّفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَبًا ، مَا مَرَرْتُ بِقَبْرِ كَافِرٍ ، إِلَّا بَشَّرْتُهُ بِالنَّارِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ایک اعرابی ( دیہاتی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور کہا : اللہ کے رسول ! میرے والد صلہ رحمی کیا کرتے تھے ، اور اس اس طرح کے اچھے کام کیا کرتے تھے ، تو اب وہ کہاں ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ جہنم میں ہیں “ اس بات سے گویا وہ رنجیدہ ہوا ، پھر اس نے کہا : اللہ کے رسول ! آپ کے والد کہاں ہیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم کسی مشرک کی قبر کے پاس سے گزرو ، تو اس کو جہنم کی خوشخبری دو “ اس کے بعد وہ اعرابی ( دیہاتی ) مسلمان ہو گیا ، اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر ایک ذمہ داری ڈال دی ہے ، اب کسی بھی کافر کی قبر سے گزرتا ہوں تو اسے جہنم کی بشارت دیتا ہوں ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1573
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الزهري عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 435
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 6803 ، ومصباح الزجاجة : 564 ) ( صحیح ) » ( ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة ، للالبانی : 18 )

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔