مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: قبروں کی زیارت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1569
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " زُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمُ الْآخِرَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قبروں کی زیارت کیا کرو ، اس لیے کہ یہ تم کو آخرت کی یاد دلاتی ہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1569
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج «صحیح مسلم/الجنائز 36 ( 976 ) ، سنن ابی داود/الجنائز81 ( 3234 ) ، سنن النسائی/الجنائز 101 ( 2036 ) ، ( تحفة الأشراف : 13439 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 7/441 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1570
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا بِسْطَامُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَخَّصَ فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کی اجازت دی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1570
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 16266 ، ومصباح الزجاجة : 562 ) ( صحیح ) ( ملاحظہ ہو : الأحکام : 181 ) ۔ »
حدیث نمبر: 1571
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوا الْقُبُورَ ، فَإِنَّهَا تُزَهِّدُ فِي الدُّنْيَا ، وَتُذَكِّرُ الْآخِرَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے تم کو قبروں کی زیارت سے روک دیا تھا ، تو اب ان کی زیارت کرو ، اس لیے کہ یہ دنیا سے بے رغبتی پیدا کرتی ہے ، اور آخرت کی یاد دلاتی ہیں ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: پہلے نبی اکرم ﷺ نے شرک کا زمانہ قریب ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کو قبروں کی زیارت سے منع فرما دیا تھا، جب ایمان خوب دلوں میں جم گیا اور شرک کا خوف نہ رہا، تو آپ نے اس کی اجازت دے دی، ترمذی کی روایت میں ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کو بھی اپنی ماں کی قبر کی زیارت کرنے کی اجازت اللہ تعالی نے دے دی اب یہ حکم عام ہے، عورت اور مرد دونوں کے لئے، یا صرف مردوں کے لئے خاص ہے، نیز صحیح یہ ہے کہ عورتیں بھی قبروں کی زیارت کر سکتی ہیں، اس لئے کہ قبروں کی زیارت سے ان کو موت اور آخرت کی یاد اور دنیا سے بے رغبتی کے فوائد حاصل ہوں گے، البتہ زیارت میں مبالغہ کرنے والی عورتوں پر حدیث میں لعنت آئی ہے، اس لئے عورتوں کو محدود انداز سے زیارت قبور کی اجازت ہے، موجودہ زمانہ میں قبروں اور مشاہد کے ساتھ مسلمانوں نے اپنی جہالت کی وجہ سے جو سلوک کر رکھا ہے، اس میں قبروں کی زیارت کا اصل مقصد اور فائدہ ہی اوجھل ہو گیا ہے، اس لئے تمام مسلمانوں کو زیارت قبور کے شرعی آداب کو سیکھنا اور اس کا لحاظ رکھنا چاہئے، اور صحیح طور پر مسنون طریقے سے قبروں کی زیارت کرنی چاہئے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1571
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن جريج عنعن, وللحديث شواھد عند مسلم (977) وغيره إلا قوله: ’’ فإنھا تزھد في الدنيا ‘‘, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 435
حدیث تخریج «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 9562 ، ومصباح الزجاجة : 563 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/452 ) ( ضعیف ) » ( ایوب بن ہانی میں کلام ہے ، لیکن «فإنها تزهد في الدنيا» کے جملہ کے علاوہ دوسری احادیث سے یہ ثابت ہے )

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔