مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: صندوقی قبر کا بیان۔
حدیث نمبر: 1557
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " لَمَّا تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَلْحَدُ ، وَآخَرُ يَضْرَحُ ، فَقَالُوا : نَسْتَخِيرُ رَبَّنَا ، وَنَبْعَثُ إِلَيْهِمَا ، فَأَيُّهُمَا سُبِقَ تَرَكْنَاهُ ، فَأُرْسِلَ إِلَيْهِمَا فَسَبَقَ صَاحِبُ اللَّحْدِ ، فَلَحَدُوا لِلنَّبِيِّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا ، تو مدینہ میں قبر بنانے والے دو شخص تھے ، ایک بغلی قبر بناتا تھا ، اور دوسرا صندوقی ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا : ہم اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کرتے ہیں ، اور دونوں کو بلا بھیجتے ہیں ( پھر جو کوئی پہلے آئے گا ، ہم اسے کام میں لگائیں گے ) اور جو بعد میں آئے اسے چھوڑ دیں گے ، ان دونوں کو بلوایا گیا ، تو بغلی قبر بنانے والا پہلے آ گیا ، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بغلی قبر بنائی گئی ۔
وضاحت:
۱؎: ابوطلحہ رضی اللہ عنہ لحد بناتے تھے اور عبیدہ رضی اللہ عنہ صندوقی۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1557
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
حدیث تخریج «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 739 ، ومصباح الزجاجة : 555 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد30/139 ) ( حسن صحیح ) »
حدیث نمبر: 1558
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ بْنِ عُبَيْدَةَ بْنِ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ طُفَيْلٍ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَلَفُوا فِي اللَّحْدِ ، وَالشَّقِّ ، حَتَّى تَكَلَّمُوا فِي ذَلِكَ وَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمْ " ، فَقَالَ عُمَرُ : " لَا تَصْخَبُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيًّا وَلَا مَيِّتًا ، أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا ، فَأَرْسَلُوا إِلَى الشَّقَّاقِ ، وَاللَّاحِدِ جَمِيعًا ، فَجَاءَ اللَّاحِدُ فَلَحَدَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ دُفِنَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا ، تو لوگوں نے بغلی اور صندوقی قبر کے سلسلے میں اختلاف کیا ، یہاں تک کہ اس سلسلے میں باتیں بڑھیں ، اور لوگوں کی آوازیں بلند ہوئیں ، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زندگی میں یا موت کے بعد شور نہ کرو ، یا ایسا ہی کچھ کہا ، بالآخر لوگوں نے بغلی اور صندوقی قبر بنانے والے دونوں کو بلا بھیجا ، تو بغلی قبر بنانے والا پہلے آ گیا ، اس نے بغلی قبر بنائی ، پھر اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کیا گیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1558
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: حسن
حدیث تخریج «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 16246 ، ومصباح الزجاجة : 556 ) ( حسن ) » ( متابعات وشواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے ، ورنہ اس کی سند میں عبید بن طفیل مجہول اور عبد الرحمن بن أبی ملیکہ ضعیف راوی ہیں ) ( تراجع الألبانی : رقم : 590 )

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔