مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: میت کو قبر میں داخل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1550
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُدْخِلَ الْمَيِّتُ الْقَبْرَ ، قَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ ، وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ " ، وَقَالَ أَبُو خَالِدٍ مَرَّةً : إِذَا وُضِعَ الْمَيِّتُ فِي لَحْدِهِ ، قَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ ، وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ " ، وَقَالَ هِشَامٌ فِي حَدِيثِهِ : " بِسْمِ اللَّهِ ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` جب مردے کو قبر میں داخل کیا جاتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «بسم الله وعلى ملة رسول الله» اور ابوخالد نے اپنی روایت میں ایک بار یوں کہا : جب میت کو اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا تو آپ «بسم الله وعلى سنة رسول الله» کہتے ، اور ہشام نے اپنی روایت میں «بسم الله وفي سبيل الله وعلى ملة رسول الله» کہا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1550
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج «حدیث ہشام بن عمار تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 8319 ) ، وحدیث عبد اللہ بن سعید أخرجہ : سنن الترمذی/الجنائز 54 ( 1046 ) ، ( تحفة الأشراف : 7644 ) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الجنائز 69 ( 3213 ) ، مسند احمد ( 2/27 ، 40 ، 59 ، 69 ، 127 ) ( صحیح ) » ( شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے ، ورنہ اس کی سند میں دو راوی اسماعیل بن عیاش اور لیث بن أبی سلیم ضعیف ہیں )
حدیث نمبر: 1551
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْخَطَّابِ ، حَدَّثَنَا مَنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ : " سَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدًا ، وَرَشَّ عَلَى قَبْرِهِ مَاءً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد رضی اللہ عنہ کو ان کی قبر کے پائتانے سے سر کی طرف سے قبر میں اتارا ، اور ان کی قبر پہ پانی چھڑکا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: سنت یہی ہے کہ میت کو قبر کے پائتانے سے قبر کے اندر اس طرح کھینچا جائے کہ پہلے سر کا حصہ قبر میں داخل ہو، اور قبر میں اسے دائیں پہلو لٹایا جائے، اس طرح پر کہ چہرہ قبلہ کی طرف ہو اور سر قبلہ کے دائیں ہو، اور پیر اس کے بائیں۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1551
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, مندل ومحمد بن عبيداللّٰه: ضعيفان, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 434
حدیث تخریج «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 12014 ، ومصباح الزجاجة : 551 ) ( ضعیف جدا ) » ( اس کی سند میں مندل بن علی اور محمد بن عبید اللہ بن أبی رافع بہت زیادہ منکر الحدیث ہیں ، نیز ملاحظہ ہو : المشکاة : 17219 )
حدیث نمبر: 1552
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُخِذَ مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ وَاسْتُقْبِلَ اسْتِقْبَالًا ، وَاسْتل استِلالًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبلہ کی طرف سے ( قبر میں ) اتارا گیا ، اور کھینچ لیا گیا ، آپ کا چہرہ قبلہ کی طرف کیا گیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1552
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عطية: ضعيف مدلس, والمحاربي عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 434
حدیث تخریج «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 4218 ، ومصباح الزجاجة : 552 ) ( منکر ) » ( اس کی سند میں عطیہ العوفی ضعیف ہیں ، نیز ملاحظہ ہو : احکام الجنائز : 150 )
حدیث نمبر: 1553
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكَلْبِيُّ ، حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ الْأَوْدِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ : حَضَرْتُ ابْنَ عُمَرَ فِي جِنَازَةٍ ، فَلَمَّا وَضَعَهَا فِي اللَّحْدِ ، قَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ " ، فَلَمَّا أُخِذَ فِي تَسْوِيَةِ اللَّبِنِ عَلَى اللَّحْدِ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ أَجِرْهَا مِنَ الشَّيْطَانِ ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، اللَّهُمَّ جَافِ الْأَرْضَ عَنْ جَنْبَيْهَا ، وَصَعِّدْ رُوحَهَا ، وَلَقِّهَا مِنْكَ رِضْوَانًا " ، قُلْتُ : يَا ابْنَ عُمَرَ ، أَشَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ أَمْ قُلْتَهُ بِرَأْيِكَ ؟ ، قَالَ : إِنِّي إِذًا لَقَادِرٌ عَلَى الْقَوْلِ ، بَلْ شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ` میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک جنازے میں آیا ، جب انہوں نے اسے قبر میں رکھا تو کہا : «بسم الله وفي سبيل الله وعلى ملة رسول الله» اور جب قبر پر اینٹیں برابر کرنے لگے تو کہا : «اللهم أجرها من الشيطان ومن عذاب القبر اللهم جاف الأرض عن جنبيها وصعد روحها ولقها منك رضوانا» ” اے اللہ ! تو اسے شیطان سے اور قبر کے عذاب سے بچا ، اے اللہ ! زمین کو اس کی پسلیوں سے کشادہ رکھ ، اور اس کی روح کو اوپر چڑھا لے ، اور اپنی رضا مندی اس کو نصیب فرما “ میں نے کہا : اے ابن عمر ! یہ دعا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ، یا اپنی طرف سے پڑھی ہے ؟ انہوں نے کہا : اگر ایسا ہو تو مجھے اختیار ہو گا ، جو چاہوں کہوں ( حالانکہ ایسا نہیں ہے ) بلکہ اسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1553
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, قال البوصيري: ’’ حماد (بن عبد الرحمٰن) متفق علي تضعيفه ‘‘(انظر الحديث السابق:253), وشيخه إدريس بن صبيح: مجهول (تقريب:295), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 434
حدیث تخریج «تفرد بہ ابن ماجہ ( تحفة الأشراف : 7084 ، ومصباح الزجاجة : 553 ) ( ضعیف ) » ( اس کی سند میں حماد بن عبد الرحمن بالاتفاق ضعیف ہیں ، ابتدائی حدیث صحیح ہے ، کما تقدم : 1550 )

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔