مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: قبرستان میں بیٹھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1548
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ فَقَعَدَ حِيَالَ الْقِبْلَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے ، تو آپ قبلہ کی طرف رخ کر کے بیٹھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1548
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, يونس بن خباب ضعيف رافضي ضعفه الجمھور و الحديث الآتي (الأصل: 1549) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 434
حدیث تخریج « سنن ابی داود/الجنائز 68 ( 3212 ) ، السنة 27 ( 4753 ، 4754 ) ، سنن النسائی/الجنائز81 ( 2003 ) ، ( تحفة الأشراف : 1758 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/287 ، 295 ، 297 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1549
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ ، فَجَلَسَ وَجَلَسْنَا كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے ، جب قبر کے پاس پہنچے تو آپ بیٹھ گئے ، اور ہم بھی بیٹھ گئے ، گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی خاموش سر جھکا کر بیٹھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم ﷺ کے پاس ہمیشہ اسی طرح با ادب بیٹھتے تھے۔ اور قبرستان میں بھی باکل خاموش اور چپ چاپ بیٹھ جاتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1549
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
حدیث تخریج « انظر ما قبلہ ، ( تحفة الأشراف : 1759 ) ( صحیح ) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔