مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: نماز جنازہ پڑھنے اور دفن تک انتظار کرنے کا ثواب۔
حدیث نمبر: 1539
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ ، وَمَنِ انْتَظَرَ حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ " ، قَالُوا : وَمَا الْقِيرَاطَانِ ؟ ، قَالَ : " مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے نماز جنازہ پڑھی ، اس کو ایک قیراط ثواب ہے ، اور جو دفن سے فراغت تک انتظار کرتا رہا ، اسے دو قیراط ثواب ہے “ لوگوں نے عرض کیا : دو قیراط کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو پہاڑ کے برابر “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1539
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الأیمان 35 ( 47 ) ، الجنائز 58 ( 1325 ) ، صحیح مسلم/الجنائز17 ( 945 ) ، سنن النسائی/الجنائز79 ( 1996 ) ، الإیمان 26 ( 5035 ) ، ( تحفة الأشراف : 13266 ) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الجنائز45 ( 3168 ) ، سنن الترمذی/الجنائز 49 ( 1040 ) ، مسند احمد ( 2/2 ، 233 ، 246 ، 280 ، 321 ، 387 ، 401 ، 430 ، 458 ، 475 ، 480 ، 493 ، 498 ، 503 ، 521 ، 531 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1540
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ ، وَمَنْ شَهِدَ دَفْنَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ " ، قَالَ : فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقِيرَاطِ ؟ ، فَقَالَ : " مِثْلُ أُحُدٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کسی کی نماز جنازہ پڑھی ، تو اس کو ایک قیراط ثواب ہے ، اور جو اس کے دفن میں بھی شریک رہا ، تو اس کو دو قیراط برابر ثواب ہے “ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیراط کے متعلق پوچھا گیا ، تو آپ نے فرمایا : ” قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1540
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج «صحیح مسلم/الجنائز 17 ( 946 ) ، ( تحفة الأشراف : 2115 ) ، مسند احمد ( 5/276 ، 277 ، 282 ، 283 ، 284 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1541
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ ، وَمَنْ شَهِدَهَا حَتَّى تُدْفَنَ فَلَهُ قِيرَاطَانِ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ الْقِيرَاطُ أَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ هَذَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے نماز جنازہ پڑھی ، اس کے لیے ایک قیراط ثواب ہے ، اور جو اس کے دفن تک جنازہ میں حاضر رہا اس کے لیے دو قیراط ثواب ہے ، اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ، قیراط اس احد پہاڑ سے بڑا ہے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: اگرچہ قیراط نہایت ہلکا وزن ہے یعنی دانق کا آدھا، اور دانق ایک درہم کا چھٹا حصہ ہے، تو قیراط درہم کا بارہواں حصہ ہوا، یعنی تقریباً دو رتی، لیکن اللہ تعالی کے نزدیک یہ قیراط بہت بڑا ہے وہ جو پہاڑ سے بھی وزن میں زائد ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1541
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 23 ، ومصباح الزجاجة : 541 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/131 ) ( صحیح ) » ( دوسرے طرق سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے ، ورنہ اس کی سند میں حجاج بن ارطاہ مدلس ہیں )

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔