مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: اہل قبلہ کی نماز جنازہ ادا کرنا۔
حدیث نمبر: 1523
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ، جَاءَ ابْنُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعْطِنِي قَمِيصَكَ أُكَفِّنْهُ فِيهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آذِنُونِي بِهِ " ، فَلَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ ، قَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : مَا ذَاكَ لَكَ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا بَيْنَ خِيَرَتَيْنِ ، اسْتَغْفِرْ لَهُمْ ، أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ سورة التوبة آية 84 .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` جب ( منافقین کے سردار ) عبداللہ بن ابی کا انتقال ہو گیا تو اس کے ( مسلمان ) بیٹے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے اپنا کرتہ دے دیجئیے ، میں اس میں اپنے والد کو کفناؤں گا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( اس کا جنازہ تیار کر کے ) مجھے اطلاع دینا “ ، جب آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھنی چاہی تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا : یہ آپ کے لیے مناسب نہیں ہے ، بہرحال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز جنازہ پڑھی ، اور عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” مجھے دو باتوں میں اختیار دیا گیا ہے «استغفر لهم أو لا تستغفر لهم» ( سورة التوبة : 80 ) ” تم ان کے لیے مغفرت طلب کرو یا نہ کرو “ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی : «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» ( سورة التوبة : 84 ) ” منافقوں میں سے جو کوئی مر جائے تو نہ اس کی نماز جنازہ پڑھیں اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1523
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
حدیث تخریج « صحیح البخاری/الجنائز22 ( 1269 ) ، تفسیرالتوبہ 12 ( 4670 ) ، 13 ( 4672 ) ، اللباس 8 ( 5796 ) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 2 ( 2400 ) ، صفات المنافقین 3 ( 2774 ) ، سنن الترمذی/تفسیر التوبة ( 3098 ) ، سنن النسائی/الجنائز 40 ( 1901 ) ، ( تحفة الأشراف : 8139 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/18 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1524
حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : مَاتَ رَأْسُ الْمُنَافِقِينَ بِالْمَدِينَةِ ، وَأَوْصَى أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنْ يُكَفِّنَهُ فِي قَمِيصِهِ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ وَكَفَّنَهُ فِي قَمِيصِهِ ، وَقَامَ عَلَى قَبْرِهِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ سورة التوبة آية 84 .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` منافقین کا سردار ( عبداللہ بن ابی ) مدینہ میں مر گیا ، اس نے وصیت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھیں ، اور اس کو اپنی قمیص میں کفنائیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی ، اور اسے اپنے کرتے میں کفنایا ، اور اس کی قبر پہ کھڑے ہوئے ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی : «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» ” منافقوں میں سے جو کوئی مر جائے تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھیں ، اور اس کی قبر پہ مت کھڑے ہوں ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1524
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: منكر بذكر الوصية , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, مجالد: ضعيف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 433
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 2355 ) ( منکر ) » ( ملاحظہ ہو : احکام الجنائز : 160 ، اس حدیث میں وصیت کا ذکر منکر ہے )
حدیث نمبر: 1525
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ ، حَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ يَقْظَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلُّوا عَلَى كُلِّ مَيِّتٍ ، وَجَاهِدُوا مَعَ كُلِّ أَمِيرٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر میت کی نماز پڑھو ، اور ہر امیر ( حاکم ) کے ساتھ ( مل کر ) جہاد کرو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1525
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, ضعيف, فيه علل منھا أبو سعيد المصلوب وھو كذاب, وللحديث شواهد ضعيفة, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 433
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 11750 ، ومصباح الزجاجة : 542 ) ( ضعیف ) » ( اس سند میں تین روای : عتبہ بن یقظان ضعیف ، حارث بن نبہان اور ابوسعید مصلوب فی الزندقہ دونوں متروک ہیں ، ملاحظہ ہو : الإرواء : 2؍309 )
حدیث نمبر: 1526
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ " أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُرِحَ فَآذَتْهُ الْجِرَاحَةُ ، فَدَبَّ إِلَى مَشَاقِصَهِ ، فَذَبَحَ بِهَا نَفْسَهُ ، فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، قَالَ : وَكَانَ ذَلِكَ أَدَبًا مِنْهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص زخمی ہوا ، اور زخم نے اسے کافی تکلیف پہنچائی ، تو وہ آہستہ آہستہ تیر کی انی کے پاس گیا ، اور اس سے اپنے کو ذبح کر لیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی تاکہ اس سے دوسروں کو نصیحت ہو ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ امام اور کوئی مقتدیٰ اور پیشوا نہ پڑھے، لیکن دوسرے عام لوگ پڑھ لیں، واضح رہے کہ ایک قرض دار تھا اور اس کا انتقال ہو گیا، تو اس کی بھی نبی کریم ﷺ نے نماز جنازہ نہیں پڑھائی تھی، لیکن لوگوں کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لیں۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1526
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج « سنن ابی داود/الجنائز 51 ( 3185 ) ، سنن الترمذی/الجنائز 68 ( 1068 ) ، ( تحفة الأشراف : 2174 ) ، وقد أخر جہ : صحیح مسلم/الجنائز 36 ( 978 ) ، سنن النسائی/الجنائز 68 ( 1963 ) ، مسند احمد ( 5/87 ، 92 ، 94 ، 96 ، 97 ) ( صحیح ) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔