حدیث نمبر: 1519
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ جَمِيعًا ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، يَقُولُ : " ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ ، أَوْ نَقْبِرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا ، حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً ، وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ الشَّمْسُ ، وَحِينَ تَضَيَّفُ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو تین اوقات میں نماز پڑھنے ، اور مردوں کو دفن کرنے سے منع فرماتے تھے : ” ایک تو جب سورج نکل رہا ہو ، اور دوسرے جب کہ ٹھیک دوپہر ہو ، یہاں تک کہ زوال ہو جائے یعنی سورج ڈھل جائے ، تیسرے جب کہ سورج ڈوبنے کے قریب ہو یہاں تک کہ ڈوب جائے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: حدیث عام ہے جس میں نماز جنازہ بھی داخل ہے، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی حدیث سے یہی سمجھا ہے، اس لیے بغیر کسی مجبوری کے ان اوقات میں نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 1520
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ ، عَنْ مِنْهَالِ بْنِ خَلِيفَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَدْخَلَ رَجُلًا قَبْرَهُ لَيْلًا ، وَأَسْرَجَ فِي قَبْرِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو رات میں دفن کیا ، اور اس کی قبر کے پاس ( روشنی کے لیے ) چراغ جلایا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہو کہ رات کو دفن کرنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 1521
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ الْمَكِّيِّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَدْفِنُوا مَوْتَاكُمْ بِاللَّيْلِ إِلَّا أَنْ تُضْطَرُّوا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے مردوں کو رات میں دفن نہ کرو ، مگر یہ کہ تم مجبور کر دئیے جاؤ ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بلا ضرورت رات میں دفن نہ کرو، لیکن اگر رات ہو جائے تو بالاتفاق رات کو دفن کرنا جائز اور صحیح ہے، جیسا کہ اس سے پہلے والی حدیث میں ذکر ہوا، نیز واضح رہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ رات ہی میں پڑھی گئی، اور ان کی تدفین بھی رات ہی میں ہوئی۔
حدیث نمبر: 1522
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ ابْنِ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " صَلُّوا عَلَى مَوْتَاكُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے مردوں کی نماز جنازہ رات اور دن میں جس وقت چاہو پڑھو “ ۔