مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: شہداء کی نماز جنازہ اور ان کی تدفین۔
حدیث نمبر: 1513
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنِ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أُتِيَ بِهِمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فَجَعَلَ يُصَلِّي عَلَى عَشَرَةٍ عَشَرَةٍ ، وَحَمْزَةُ هُوَ كَمَا هُوَ ، يُرْفَعُونَ ، وَهُوَ كَمَا هُوَ مَوْضُوعٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` غزوہ احد کے دن شہداء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے گئے ، تو آپ دس دس آدمیوں پر نماز جنازہ پڑھنے لگے ، اور حمزہ رضی اللہ عنہ کی لاش اسی طرح رکھی رہی اور باقی لاشیں نماز جنازہ کے بعد لوگ اٹھا کر لے جاتے رہے ، لیکن حمزہ رضی اللہ عنہ کی لاش جیسی تھی ویسی ہی رکھی رہی ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1513
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 6497 ، ومصباح الزجاجة : 540 ) ( صحیح ) » ( شواہد سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے ، ورنہ اس کی سند میں یزید بن أبی زیاد ضعیف راوی ہے )
حدیث نمبر: 1514
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، ثُمَّ يَقُولُ : " أَيُّهُمْ أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ " ، فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى أَحَدِهِمْ قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ ، وَقَالَ : " أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ ، وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ فِي دِمَائِهِمْ ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ ، وَلَمْ يُغَسَّلُوا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے شہداء میں سے دو دو تین تین کو ایک کپڑے میں لپیٹتے ، پھر پوچھتے : ” ان میں سے قرآن کس کو زیادہ یاد ہے “ ؟ جب ان میں سے کسی ایک کی جانب اشارہ کیا جاتا ، تو اسے قبر ( قبلہ کی طرف ) میں آگے کرتے ، اور فرماتے : ” میں ان لوگوں پہ گواہ ہوں ، ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے خونوں کے ساتھ دفن کرنے کا حکم دیا ، نہ تو آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھی ، اور نہ غسل دلایا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شہداء کو غسل نہیں دیا جائے گا، اس پر سب کا اتفاق ہے، نیز امام احمد کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے شہیدوں کو غسل دینے سے منع کیا، اور فرمایا: اس کا زخم قیامت کے دن مشک کی خوشبو چھوڑے گا اور حنظلہ رضی اللہ عنہ جنابت کی حالت میں شہید ہوئے تھے، جب بھی نبی اکرم ﷺ نے ان کو غسل نہیں دیا، اور فرمایا: فرشتے ان کو غسل دیتے ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1514
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
حدیث تخریج « صحیح البخاری/الجنائز72 ( 1343 ) ، 73 ( 1245 ) ، 75 ( 1347 ) ، 78 ( 1353 ) ، المغازي 126 ( 4079 ) ، سنن ابی داود/ الجنائز 31 ( 3138 ، 3139 ) ، سنن الترمذی/الجنائز46 ( 1036 ) ، سنن النسائی/الجنائز62 ( 1957 ) ، ( تحفة الأشراف : 2382 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1515
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَرَ بِقَتْلَى أُحُدٍ أَنْ يُنْزَعَ عَنْهُمُ الْحَدِيدُ وَالْجُلُودُ ، وَأَنْ يُدْفَنُوا فِي ثِيَابِهِمْ بِدِمَائِهِمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء احد کے بارے میں حکم دیا کہ ان سے ہتھیار اور پوستین اتار لی جائے ، اور ان کو انہیں کپڑوں میں خون سمیت دفنایا جائے ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1515
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سنن أبي داود (3134), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 432
حدیث تخریج « سنن ابی داود/الجنائز 31 ( 3134 ) ، ( تحفة الأشراف : 5570 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/247 ) ( ضعیف ) » ( اس کے راوی علی بن عاصم اور عطاء اخیر میں اختلاط کا شکار ہو گئے تھے ، ملاحظہ ہو : الإرواء : 709 )
حدیث نمبر: 1516
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، سَمِعَ نُبَيْحًا الْعَنْزِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَرَ بِقَتْلَى أُحُدٍ أَنْ يُرَدُّوا إِلَى مَصَارِعِهِمْ ، وَكَانُوا نُقِلُوا إِلَى الْمَدِينَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء احد کے بارے میں حکم دیا کہ وہ اپنی شہادت گاہوں کی جانب لوٹا دئیے جائیں ، لوگ انہیں مدینہ لے آئے تھے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شہداء اپنی شہادت کی جگہ سے کہیں اور منتقل نہ کئے جائیں، بلکہ جہاں وہ شہید ہوئے ہوں، وہیں ان کو دفن کر دیا جائے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1516
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج « سنن ابی داود/الجنائز42 ( 3165 ) ، سنن الترمذی/الجہاد 37 ( 1717 ) ، سنن النسائی/الجنائز 83 ( 2006 ) ، ( تحفة الأشراف : 3117 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 3/ 297 ، 303 ، 308 ، 397 ) ، سنن الدارمی/المقدمة 7 ( 46 ) ( صحیح ) » ( متابعات و شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت صحیح ہے ، ورنہ اس کے روای نبیح لین الحدیث ہیں )

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔