مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے کی وفات کا ذکر اور ان کی نماز جنازہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1510
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى : رَأَيْتَ إِبْرَاهِيمَ ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَاتَ وَهُوَ صَغِيرٌ ، وَلَوْ قُضِيَ أَنْ يَكُونَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيٌّ لَعَاشَ ابْنُهُ ، وَلَكِنْ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں کہ` میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا : آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے ابراہیم کو دیکھا ہے ؟ انہوں نے کہا : ابراہیم بچپن ہی میں انتقال کر گئے ، اور اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا نبی ہونا مقدر ہوتا تو آپ کے بیٹے زندہ رہتے ، لیکن آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ایک حدیث میں ہے کہ اگر ابراہیم زندہ رہتے تو نبی ہوتے، اور اس حدیث میں ہے کہ اگر نبی اکرم ﷺ کے بعد کسی کا نبی ہونا مقدر ہوتا تو ابراہیم زندہ رہتے، ایسا ہونا محال تھا کیونکہ نبی اکرم ﷺ خاتم الانبیاء تھے، آپ ﷺ کے بعد دوسرا کوئی نبی نہیں ہو سکتا، اور تقدیر الٰہی بھی ایسی ہی تھی، جب تو آپ کے صاحبزادوں میں سے کوئی زندہ نہ بچا، جیسے طیب، طاہر اور قاسم، خدیجہ رضی اللہ عنہا سے، اور ابراہیم ماریہ رضی اللہ عنہا سے، یہ چار صاحبزادے بچپن ہی میں انتقال کر گئے، اگرچہ یہ لازم نہیں ہے کہ نبی کا بیٹا بھی نبی ہی ہو۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1510
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
حدیث تخریج « صحیح البخاری/الأدب 109 ( 6194 ) ، ( تحفة الأشراف : 5158 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/353 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1511
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ : " إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ ، وَلَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا ، وَلَوْ عَاشَ لَعَتَقَتْ أَخْوَالُهُ الْقِبْطُ ، وَمَا اسْتُرِقَّ قِبْطِيٌّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کا انتقال ہو گیا ، تو آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی ، اور فرمایا : ” جنت میں ان کے لیے ایک دایہ ہے ، اور اگر وہ زندہ رہتے تو صدیق اور نبی ہوتے ، اور ان کے ننہال کے قبطی آزاد ہو جاتے ، اور کوئی بھی قبطی غلام نہ بنایا جاتا “ ۔
وضاحت:
۱؎: قبطی: ایک مصری قوم ہے، فرعون اسی قوم سے تھا، اور اسماعیل علیہ السلام کی والدہ ہاجرہ بھی اسی قوم کی تھیں، نیز نبی اکرم ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم کی والدہ ماریہ بھی اسی قوم کی تھیں۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1511
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح دون جملة العتق , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدًا, أبو شيبة إبراهيم بن عثمان: متروك, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 432
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 6482 ، ومصباح الزجاجة : 538 ) ( صحیح ) » ( اس کی سند میں ابراہیم بن عثمان ابو شیبہ متروک الحدیث ہے ، لیکن «عتق» کے جملہ کے علاوہ بقیہ حدیث عبد اللہ بن ابی اوفی سے صحیح ہے ، تراجع الألبانی : رقم : 235 )
حدیث نمبر: 1512
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ أَبِيهَا الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : لَمَّا تُوُفِّيَ الْقَاسِمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ خَدِيجَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَرَّتْ لُبَيْنَةُ الْقَاسِمِ فَلَوْ كَانَ اللَّهُ أَبْقَاهُ حَتَّى يَسْتَكْمِلَ رِضَاعَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ تَمَامَ رَضَاعِهِ فِي الْجَنَّةِ " ، قَالَتْ : لَوْ أَعْلَمُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَهَوَّنَ عَلَيَّ أَمْرَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ تَعَالَى فَأَسْمَعَكِ صَوْتَهُ " ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَلْ أُصَدِّقُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حسین بن علی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے قاسم کا انتقال ہو گیا ، تو ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کے رسول ! قاسم جس پستان سے دودھ پیتے تھے اس میں دودھ جمع ہو گیا ہے ، کاش کہ اللہ ان کو باحیات رکھتا یہاں تک کہ دودھ کی مدت پوری ہو جاتی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان کی مدت رضاعت جنت میں پوری ہو رہی ہے “ تو خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کے رسول ! اگر یہ بات مجھے معلوم رہی ہوتی تو مجھ پر ان کا غم ہلکا ہو گیا ہوتا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم چاہو تو میں اللہ سے دعا کروں کہ وہ قاسم کی آواز تمہیں سنا دے “ ، خدیجہ رضی اللہ عنہا بولیں : ( نہیں ) بلکہ میں اللہ اور اس کے رسول کی تصدیق کرتی ہوں ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1512
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف جدا , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدًا, أبو المقدام هشام بن زياد: متروك, وأمه: لا تعرف (تقريب: 8823), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 432
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 3413 ، ومصباح الزجاجة : 539 ) ( ضعیف جدا ) » ( اس میں ہشام بن أبی الولید متروک راوی ہے )

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔