مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: نماز جنازہ میں چار تکبیرات کا بیان۔
حدیث نمبر: 1502
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْإِيَاسِ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَّى عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ ، وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی ، اور چار تکبیریں کہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1502
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدًا, خالد بن إياس: متروك, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 432
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 9828 ، ومصباح الزجاجة : 534 ) ( ضعیف ) » ( اس میں خالد بن ایاس ضعیف ہیں )
حدیث نمبر: 1503
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، حَدَّثَنَا الْهَجَرِيُّ ، قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى الْأَسْلَمِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جِنَازَةِ ابْنَةٍ لَهُ ، فَكَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا ، فَمَكَثَ بَعْدَ الرَّابِعَةِ شَيْئًا ، قَالَ : فَسَمِعْتُ الْقَوْمَ يُسَبِّحُونَ بِهِ مِنْ نَوَاحِي الصُّفُوفِ فَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : أَكُنْتُمْ تَرَوْنَ أَنِّي مُكَبِّرٌ خَمْسًا ؟ ، قَالُوا : تَخَوَّفْنَا ذَلِكَ ، قَالَ : لَمْ أَكُنْ لِأَفْعَلَ ، وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يُكَبِّرُ أَرْبَعًا ، ثُمَّ يَمْكُثُ سَاعَةً ، فَيَقُولُ : مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ، ثُمَّ يُسَلِّمُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابراہیم بن مسلم ہجری کہتے ہیں کہ` میں نے صحابی رسول عبداللہ بن ابی اوفی اسلمی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے ایک بیٹے کی نماز جنازہ پڑھی ، تو انہوں نے اس میں چار تکبیریں کہیں ، چوتھی تکبیر کے بعد کچھ دیر ٹھہرے ، ( اور سلام پھیرنے میں توقف کیا ) تو میں نے لوگوں کو سنا کہ وہ صف کے مختلف جانب سے «سبحان الله» کہہ رہے ہیں ، انہوں نے سلام پھیرا ، اور کہا : کیا تم لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ میں پانچ تکبیریں کہوں گا ؟ لوگوں نے کہا : ہمیں اسی کا ڈر تھا ، عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ایسا کرنے والا نہیں تھا ، لیکن چوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چار تکبیریں کہنے کے بعد کچھ دیر ٹھہرتے تھے ، اور جو اللہ توفیق دیتا وہ پڑھتے تھے ، پھر سلام پھیرتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1503
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, إبراهيم بن مسلم الھجري لين الحديث رفع موقوفات (تقريب: 2520) لين الحديث: أي ضعيف وأخرج البيھقي (4/ 35) بإسناد قوي عن أبي يعفور وقدان عن ابن أبي أوفي به نحوه مختصرًا وھو الصحيح, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 432
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 5152 ، ومصباح الزجاجة : 535 ) وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/356 ، 383 ) ( حسن ) » ( متابعات و شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے ، ورنہ اس کی سند میں ابراہیم بن مسلم الہجری الکوفی ضعیف ہیں )
حدیث نمبر: 1504
حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ خَلِيفَةَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَبَّرَ أَرْبَعًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار بار تکبیریں «الله أكبر» کہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1504
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 5891 ) ( صحیح ) » ( دوسری سند سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے ، ورنہ اس کی سند میں حجاج بن أرطاة مدلس ہیں )

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔