مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: نماز جنازہ پڑھاتے وقت امام کہاں کھڑا ہو؟
حدیث نمبر: 1493
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : الْحُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ أَخْبَرَنِي ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ الْفَزَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَّى عَلَى امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا فَقَامَ وَسَطَهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سمرہ بن جندب فزاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کی نماز جنازہ پڑھائی جو زچگی میں مر گئی تھی ۱؎ ، تو آپ اس کے بیچ میں کھڑے ہوئے ۔
وضاحت:
۱؎: اس عورت کی کنیت ام کعب ہے جیسا کہ نسائی کی روایت میں اس کی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1493
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
حدیث تخریج « صحیح البخاری/الحیض29 ( 332 ) ، الجنائز62 ( 1332 ) ، 63 ( 1333 ) ، صحیح مسلم/الجنائز27 ( 964 ) ، سنن ابی داود/الجنائز 57 ( 3195 ) ، سنن الترمذی/الجنائز45 ( 1035 ) ، سنن النسائی/الحیض25 ( 393 ) ، الجنائز73 ( 1978 ) ، ( تحفة الأشراف : 4625 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/14 ، 19 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1494
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ صَلَّى عَلَى جِنَازَةِ رَجُلٍ ، فَقَامَ حِيَالَ رَأْسِهِ ، فَجِيءَ بِجِنَازَةٍ أُخْرَى بِامْرَأَةٍ ، فَقَالُوا : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، صَلِّ عَلَيْهَا ، فَقَامَ حِيَالَ وَسَطِ السَّرِيرِ ، فَقَالَ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، هَكَذَا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَامَ مِنَ الْجِنَازَةِ مُقَامَكَ مِنَ الرَّجُلِ ، وَقَامَ مِنَ الْمَرْأَةِ مُقَامَكَ مِنَ الْمَرْأَةِ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ " ، فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : احْفَظُوا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوغالب کہتے ہیں کہ` میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک آدمی کی نماز جنازہ پڑھائی تو اس کے سر کے سامنے کھڑے ہوئے ، پھر ایک دوسرا جنازہ ایک عورت کا لایا گیا ، تو لوگوں نے کہا : اے ابوحمزہ ! اس کی نماز جنازہ پڑھائیے ، تو وہ چارپائی کے بیچ میں کھڑے ہوئے ، تو ان سے علاء بن زیاد نے کہا : اے ابوحمزہ ! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح مرد اور عورت کے جنازے میں کھڑے ہوتے ہوئے دیکھا ، جس طرح آپ کھڑے ہوئے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور بولے : سب لوگ یاد کر لو ۔
وضاحت:
۱؎: ابوحمزہ: انس رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1494
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
حدیث تخریج « سنن ابی داود/الجنائز57 ( 3194 ) ، سنن الترمذی/الجنائز45 ( 1034 ) ، ( تحفة الأشراف : 1621 ) ، وقد أخرجہ : حم ( 3/118 ، 151 ، 204 ) ( صحیح ) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔