مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: میت کی مدح و ثنا کا بیان۔
حدیث نمبر: 1491
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ ، فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا ، فَقَالَ : " وَجَبَتْ " ، ثُمَّ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ ، فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا ، فَقَالَ : " وَجَبَتْ " ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُلْتَ لِهَذِهِ : وَجَبَتْ ، وَلِهَذِهِ : وَجَبَتْ ، فَقَالَ : " شَهَادَةُ الْقَوْمِ وَالْمُؤْمِنُونَ شُهُودُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ لے جایا گیا ، لوگوں نے اس کی تعریف کی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس پر ( جنت ) واجب ہو گئی “ پھر آپ کے سامنے سے ایک اور جنازہ لے جایا گیا ، تو لوگوں نے اس کی برائی کی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس پر ( جہنم ) واجب ہو گئی “ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے اس کے لیے بھی فرمایا : ” واجب ہو گئی “ ، اور اس کے لیے بھی فرمایا : ” واجب ہو گئی “ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں کی گواہی واجب ہو گئی ، اور مومن زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہیں “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پکے سچے مسلمان جن کا شیوہ عدل و انصاف ہے، جس شخص کی دینی اور اخلاقی بنیادوں پر تعریف کریں، گویا وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جنتی ہے، اور جس کی وہ ہجو اور برائی کریں وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک برا ہے، کیونکہ واقعہ یہ ہے کہ موت سے تمام دنیاوی عداوتیں اور دشمنیاں ختم ہو جاتی ہیں، اور دشمن بھی اس وقت دشمن نہیں رہتا، لہذا اب جو کوئی اس کی برائی بیان کرے گا تو اس کا سبب دنیوی عداوت نہ ہو گا، بلکہ حقیقت میں اس کے اخلاق یا دین میں کوئی برائی ہو گی۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1491
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
حدیث تخریج « صحیح البخاری/الجنائز 85 ( 1367 ) ، الشہادات 6 ( 2642 ) ، صحیح مسلم/الجنائز 20 ( 949 ) ، ( تحفة الأشراف : 294 ) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الجنائز 64 ( 1058 ) ، سنن النسائی/الجنائز50 ( 1934 ) ، مسند احمد ( 3/179 ، 186 ، 7 19 ، 245 ، 281 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1492
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ ، فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا فِي مَنَاقِبِ الْخَيْرِ ، فَقَالَ : " وَجَبَتْ " ، ثُمَّ مَرُّوا عَلَيْهِ بِأُخْرَى ، فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا فِي مَنَاقِبِ الشَّرِّ ، فَقَالَ : " وَجَبَتْ ، إِنَّكُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو اس کی اچھی خصلتوں کی تعریف کی گئی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس پر ( جنت ) واجب ہو گئی “ پھر آپ کے پاس سے ایک اور جنازہ گزرا ، اس کی بری خصلتوں کا تذکرہ ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس پر ( جہنم ) واجب ہو گئی ، تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1492
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 15074 ، ومصباح الزجاجة : 531 ) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الجنائز80 ( 3233 ) ، سنن النسائی/الجنائز 50 ( 1935 ) ، مسند احمد ( 2/261 ، 499 ) ( صحیح ) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔