کتب حدیث ›
سنن ابن ماجه › ابواب
› باب: جس شخص پر مسلمانوں کی ایک جماعت نے نماز جنازہ پڑھی اس کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1488
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَنْبَأَنَا شَيْبَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ مِائَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ غُفِرَ لَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص کی نماز جنازہ سو مسلمانوں نے پڑھی اسے بخش دیا جائے گا “ ۔
حدیث نمبر: 1489
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سُلَيْمٍ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ الْخَرَّاطُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : هَلَكَ ابْنٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ لِي : يَا كُرَيْبُ ، قُمْ فَانْظُرْ : هَلِ اجْتَمَعَ لِابْنِي أَحَدٌ ؟ ، فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَ : وَيْحَكَ ، كَمْ تَرَاهُمْ ، أَرْبَعِينَ ؟ ، قُلْتُ : لَا ، بَلْ هُمْ أَكْثَرُ ، قَالَ : فَاخْرُجُوا بِابْنِي ، فَأَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا مِنْ أَرْبَعِينَ مِنْ مُؤْمِنٍ يَشْفَعُونَ لِمُؤْمِنٍ إِلَّا شَفَّعَهُمُ اللَّهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کہتے ہیں کہ` عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ایک بیٹے کا انتقال ہو گیا ، تو انہوں نے مجھ سے کہا : اے کریب ! جاؤ ، دیکھو میرے بیٹے کے جنازے کے لیے کچھ لوگ جمع ہوئے ہیں ؟ میں نے کہا : جی ہاں ، انہوں نے کہا : تم پر افسوس ہے ، ان کی تعداد کتنی سمجھتے ہو ؟ کیا وہ چالیس ہیں ؟ میں نے کہا : نہیں ، بلکہ وہ اس سے زیادہ ہیں ، تو انہوں نے کہا : تو پھر میرے بیٹے کو نکالو ، میں قسم کھاتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” اگر چالیس ۱؎ مومن کسی مومن کے لیے شفاعت کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی شفاعت کو قبول کرے گا “ ۔
وضاحت:
۱؎: اوپر کی حدیث میں سو مسلمان کا ذکر ہے، اور اس حدیث میں چالیس کا، بظاہر دونوں میں تعارض ہے، تطبیق کی صورت یہ ہے کہ پہلے نبی اکرم ﷺ کو سو کی تعداد بتائی گئی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر مزید احسان فرمایا، اور اس تعداد میں تخفیف فرما دی، اور سو سے گھٹا کر چالیس کر دی، نیز چالیس کا عدد مغفرت کے لئے کافی ہے، اب اگر سو ہوں گے تو اور زیادہ مغفرت کی امید ہے، «ان شاء اللہ العزیز» ۔
حدیث نمبر: 1490
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ هُبَيْرَةَ الشَّامِيِّ ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ : كَانَ إِذَا أُتِيَ بِجِنَازَةٍ فَتَقَالَّ : مَنْ تَبِعَهَا ؟ جَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ صُفُوفٍ ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا ، وَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا صَفَّ صُفُوفٌ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى مَيِّتٍ إِلَّا أَوْجَبَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مالک بن ہبیرہ شامی رضی اللہ عنہ ( انہیں صحبت رسول کا شرف حاصل تھا ) کہتے ہیں کہ` جب ان کے پاس کوئی جنازہ لایا جاتا ، اور وہ اس کے ساتھ آنے والوں کی تعداد کم محسوس کرتے تو انہیں تین صفوں میں تقسیم کر دیتے ، پھر اس کی نماز جنازہ پڑھتے اور کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” جس کسی میت پہ مسلمانوں کی تین صفوں نے صف بندی کی ، تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی “ ۔