مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: جنازہ کے ساتھ ماتمی لباس پہننے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 1485
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَزَوَّرِ ، عَنْ نُفَيْعٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، وأبى برزة قَالَا : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ ، فَرَأَى قَوْمًا قَدْ طَرَحُوا أَرْدِيَتَهُمْ ، يَمْشُونَ فِي قُمُصٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبِفِعْلِ الْجَاهِلِيَّةِ تَأْخُذُونَ أَوْ بِصُنْعِ الْجَاهِلِيَّةِ تَشَبَّهُونَ ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَدْعُوَ عَلَيْكُمْ دَعْوَةً تَرْجِعُونَ فِي غَيْرِ صُوَرِكُمْ " ، قَالَ : فَأَخَذُوا أَرْدِيَتَهُمْ ، وَلَمْ يَعُودُوا لِذَلِكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمران بن حصین اور ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے ، تو آپ نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی چادریں پھینک دیں ، اور صرف قمیصیں پہنے ہوئے چل رہے تھے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم لوگ دور جاہلیت کا طریقہ اپناتے ہو یا جاہلیت کے طریقہ کی مشابہت کرتے ہو ؟ میں نے ارادہ کیا کہ تم پر ایسی بد دعا کروں کہ تم اپنی صورتوں کے علاوہ دوسری صورتوں میں اپنے گھروں کو لوٹو “ یہ سنتے ہی ان لوگوں نے اپنی چادریں لے لیں ، اور دوبارہ ایسا نہ کیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1485
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: موضوع , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده موضوع, أبو داود نفيع الأعمي: متروك وقد كذبه ابن معين, وتلميذه علي بن الحزور متروك شديد التشيع (تقريب: 4703), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 431
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 10864 ، 11602 ، ومصباح الزجاجة : 528 ) ( موضوع ) » ( اس کی سند میں نفیع بن حارث متروک الحدیث اور متہم بالوضع ہے ، نیز علی بن الحزور متروک و منکر الحدیث ہے ، نیز ملاحظہ ہو : المشکاة : 1750 )

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔