مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: موت کی خبر دینے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 1476
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى ، قَالَ : كَانَ حُذَيْفَةُ إِذَا مَاتَ لَهُ الْمَيِّتُ ، قَالَ : لَا تُؤْذِنُوا بِهِ أَحَدًا ، إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ نَعْيًا ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُذُنَيَّ هَاتَيْنِ : " يَنْهَى عَنِ النَّعْيِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بلال بن یحییٰ کہتے ہیں کہ` جب حذیفہ رضی اللہ عنہ کا کوئی رشتہ دار انتقال کر جاتا تو کہتے : کسی کو اس کے انتقال کی خبر مت دو ، میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ «نعی» ۱؎ نہ ہو ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ان کانوں سے «نعی» سے منع فرماتے سنا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: «نعی» : کسی کے مرنے کی خبر دینے کو «نعی» کہتے ہیں، «نعی» جائز ہے، خود نبی اکرم ﷺ نے نجاشی کی وفات کی خبر دی ہے اسی طرح زید بن حارثہ، جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کی وفات کی خبریں بھی آپ نے لوگوں کو دی ہیں، جس «نعی» کی ممانعت حدیثوں میں وارد ہے، یہ وہ «نعی» ہے جسے اہل جاہلیت کرتے تھے، جب کوئی مر جاتا تو وہ ایک شخص کو بھیجتے جو محلوں اور بازاروں میں پھر پھر کر اس کے مرنے کا اعلان کرتا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1476
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (986), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 430
حدیث تخریج « سنن الترمذی/الجنائز 12 ( 986 ) ، ( تحفة الأشراف : 3303 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/385 ، 406 ) ( حسن ) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔