حدیث نمبر: 1454
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ ، وَقَدْ شَقَّ بَصَرُهُ ، فَأَغْمَضَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، ان کی آنکھ کھلی ہوئی تھی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بند کر دیا ، پھر فرمایا : ” جب روح قبض کی جاتی ہے ، تو آنکھ اس کا پیچھا کرتی ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: مردے کی آنکھ اس واسطے کھلی رہ جاتی ہے کہ روح کو جاتے وقت وہ دیکھتا ہے، پھر آنکھ بند کرنے کی طاقت نہیں رہتی اس لئے آنکھ کھلی رہ جاتی ہے، «واللہ اعلم» ۔
حدیث نمبر: 1455
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا حَضَرْتُمْ مَوْتَاكُمْ فَأَغْمِضُوا الْبَصَرَ ، فَإِنَّ الْبَصَرَ يَتْبَعُ الرُّوحَ ، وَقُولُوا خَيْرًا ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ عَلَى مَا قَالَ أَهْلُ الْبَيْتِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم اپنے مردوں کے پاس جاؤ تو ان کی آنکھیں بند کر دو ، اس لیے کہ آنکھ روح کا پیچھا کرتی ہے ، اور ( میت کے پاس ) اچھی بات کہو ، کیونکہ فرشتے گھر والوں کی بات پر آمین کہتے ہیں “ ۔