مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: مومن کو موت کی سختی پر اجر و ثواب حاصل ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 1451
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا ، وَعِنْدَهَا حَمِيمٌ لَهَا يَخْنُقُهُ الْمَوْتُ ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بِهَا قَالَ لَهَا : " لَا تَبْتَئِسِي عَلَى حَمِيمِكِ ، فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ حَسَنَاتِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے ، وہاں پر عائشہ رضی اللہ عنہا کے ایک رشتہ دار کا موت سے دم گھٹ رہا تھا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کا رنج دیکھا تو ان سے فرمایا : ” تم اپنے رشتہ دار پر غم زدہ نہ ہو ، کیونکہ یہ اس کی نیکیوں میں سے ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1451
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الوليد لم يصرح بالسماع المسلسل, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 429
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 17383 ، ومصباح الزجاجة : 514 ) ( ضعیف ) » ( اس کی سند میں ولید بن مسلم ہیں ، جو کثیر التدلیس و التسویہ ہیں ، گرچہ یہاں پر صیغہ تحدیث کا ہے ، لیکن رواة کے اسقاط سے تدلس التسویة کا احتمال باقی ہے کہ درمیان سے کوئی راوی ساقط کر دیا ہو ، ملاحظہ ہو : تہذب الکمال : 31/97 )
حدیث نمبر: 1452
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمُؤْمِنُ يَمُوتُ بِعَرَقِ الْجَبِينِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن ایسی حالت میں مرتا ہے کہ اس کی پیشانی پسینہ آلود ہوتی ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی مومن موت کی شدت سے دو چار ہوتا ہے، یا موت اسے اچانک اس حال میں پا لیتی ہے کہ وہ حلال رزق اور فرائض کی ادائیگی کے لیے اس قدر کوشاں رہتا ہے کہ اس کی پیشانی عرق آلود رہتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1452
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج « سنن الترمذی/الجنائز 10 ( 982 ) ، سنن النسائی/الجنائز 5 ( 1829 ) ، ( تحفة الأشراف : 1992 ) ، وقد أخرجہ : ( حم 5/350 ، 357 ، 360 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1453
حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ كَرْدَمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَتَى تَنْقَطِعُ مَعْرِفَةُ الْعَبْدِ مِنَ النَّاسِ ؟ ، قَالَ : إِذَا عَايَنَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : بندے سے لوگوں کی پہچان کب ختم ہو جاتی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب وہ ( موت کے فرشتوں کو ) دیکھ لیتا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1453
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف جدا , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدًا, قال البو صيري: ’’ في إسناده: نصر بن حماد،كذبه يحيي بن معين وغيره ‘‘ وھو: متروك متھم (تحفة الأقوياء في تحقيق كتاب الضعفاء ص 127 رقم: 441) وقال يحيي بن معين: نصر بن حماد: كذاب (كتاب الضعفاء للعقيلي 301/4 وسنده صحيح) وشيخه موسي بن كردم: مجهول (تقريب: 7005), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 429
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 9130 ، ومصباح الزجاجة : 515 ) ( ضعیف جدًا ) » ( اس میں نصر بن حماد ہے ، جس پر حدیث گھڑنے کی تہمت ہے )

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔