مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: جانکنی کے وقت مریض کے پاس کیا دعا پڑھی جائے؟
حدیث نمبر: 1447
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا حَضَرْتُمَ الْمَرِيضَ أَوِ الْمَيِّتَ ، فَقُولُوا خَيْرًا ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ " ، فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ ، أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا سَلَمَةَ قَدْ مَاتَ ، قَالَ : " قُولِي : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلَهُ ، وَأَعْقِبْنِي مِنْهُ عُقْبًى حَسَنَةً " ، قَالَتْ : فَفَعَلْتُ فَأَعْقَبَنِي اللَّهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ ، مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم بیمار یا میت کے پاس جاؤ ، تو اچھی بات کہو ، اس لیے کہ فرشتے تمہاری باتوں پہ آمین کہتے ہیں “ ، چنانچہ جب ( میرے شوہر ) ابوسلمہ کا انتقال ہوا تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، اور میں نے کہا : اللہ کے رسول ! ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم یہ کلمات کہو  : «اللهم اغفر لي وله وأعقبني منه عقبى حسنة» ” اے اللہ مجھ کو اور ان کو بخش دے ، اور مجھے ان کا نعم البدل عطا فرما “ ۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ایسا ہی کیا ، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بہتر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے نعم البدل کے طور پر عطا کیا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: دوسری روایت میں ہے کہ میں نے اپنے دل میں کہا: ابوسلمہ سے بہتر کون ہو گا، پھر اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کو دیا، جو ابوسلمہ سے بہتر تھے، ابوسلمہ کی وفات کے بعد ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم ﷺ سے نکاح کر لیا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1447
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج « صحیح مسلم/الجنائز 3 ( 919 ) ، سنن ابی داود/الجنائز 19 ( 3115 ) ، سنن الترمذی/الجنائز 7 ( 977 ) سنن النسائی/الجنائز 3 ( 1826 ) ، ( تحفة الأشراف : 18162 ) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الجنائز 14 ( 42 ) ، مسند احمد ( 6/291 ، 306 ، 322 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1448
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ وَلَيْسَ بِالنَّهْدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْرَءُوهَا عِنْدَ مَوْتَاكُمْ " ، يَعْنِي : يس .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے مردوں کے پاس اسے یعنی سورۃ يس پڑھو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1448
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سنن أبي داود (3121), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 429
حدیث تخریج « سنن ابی داود/الجنائز 24 ( 3121 ) ( تحفة الأشراف : 11479 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/26 ، 27 ) ( ضعیف ) » ( ملاحظہ ہو : الإرواء : 688 ، وسلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 5861 ، ابوعثمان کے والد مجہول ہیں )
حدیث نمبر: 1449
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ ، جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : لَمَّا حَضَرَتْ كَعْبًا الْوَفَاةُ أَتَتْهُ أُمُّ بِشْرٍ بِنْتُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ ، فَقَالَتْ : " يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنْ لَقِيتَ فُلَانًا فَاقْرَأْ عَلَيْهِ مِنِّي السَّلَامَ " ، قَالَ : غَفَرَ اللَّهُ لَكِ يَا أُمَّ بِشْرٍ ، نَحْنُ أَشْغَلُ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَتْ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ أَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ فِي طَيْرٍ خُضْرٍ ، تَعْلُقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ " ، قَالَ : بَلَى ، قَالَتْ : فَهُوَ ذَاكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک بیان کرتے ہیں کہ` جب ان کے والد کعب رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت آیا ، تو ان کے پاس ام بشر بنت براء بن معرور ( رضی اللہ عنہما ) آئیں ، اور کہنے لگیں : اے ابوعبدالرحمٰن ! اگر فلاں سے آپ کی ملاقات ہو تو ان کو میرا سلام کہیں ، کعب رضی اللہ عنہ نے کہا : اے ام بشر ! اللہ تمہیں بخشے ، ہمیں اتنی فرصت کہاں ہو گی کہ ہم لوگوں کا سلام پہنچاتے پھریں ، انہوں نے کہا : اے ابوعبدالرحمٰن ! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے نہیں سنا : ” مومنوں کی روحیں سبز پرندوں کی صورت میں ہوں گی ، اور جنت کے درختوں سے کھاتی چرتی ہوں گی “ ، کعب رضی اللہ عنہ کہا : کیوں نہیں ، ضرور سنی ہے ، تو انہوں نے کہا : بس یہی مطلب ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1449
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, محمد بن إسحاق مدلس, ولم أجد تصريح سماعه, والحديث الآتي (الأصل: 4271) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 429
حدیث تخریج « سنن الترمذی/فضائل الجہاد 13 ( 1641 ) ، سنن النسائی/الجنائز 117 ( 2075 ) ، ( تحفة الأشراف : 11148 ) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الجنائز 16 ( 49 ) ، مسند احمد ( 3/455 ، 456 ، 460 ، 6/386 ، 425 ) ( ضعیف ) » ( سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں ، اور روایت عنعنہ سے ہے ، اس لئے یہ ضعیف ہے ، لیکن مرفوع حدیث صحیح ہے ، جو ( 4271 ) نمبر پر آ رہی ہے )
حدیث نمبر: 1450
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : " دَخَلْتُ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَمُوتُ ، فَقُلْتُ : اقْرَأْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّلَامَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ` میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی وفات کے وقت ان کے پاس گیا ، تو میں نے ان سے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہئے گا ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1450
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 3095 ، ومصباح الزجاجة : 513 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 3/69 ) ( ضعیف ) » ( شیخ البانی نے اسے ضعیف کہا ہے ، ضعیف الجامع : 275 ، مسند احمد کے محققین نے اسے صحیح الاسناد کہا ہے ، ملاحظہ ہو : 11660 ، 19482 )

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔