مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: مریض کی عیادت کا ثواب۔
حدیث نمبر: 1442
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ أَتَى أَخَاهُ الْمُسْلِمَ عَائِدًا ، مَشَى فِي خَرَافَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَجْلِسَ ، فَإِذَا جَلَسَ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ ، فَإِنْ كَانَ غُدْوَةً صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُمْسِيَ ، وَإِنْ كَانَ مَسَاءً صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُصْبِحَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کے لیے آئے وہ جنت کے کھجور کے باغ میں چل رہا ہے یہاں تک کہ وہ بیٹھ جائے ، جب بیٹھ جائے ، تو رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے ، اگر صبح کے وقت عیادت کے لیے گیا ہو تو ستر ہزار فرشتے شام تک اس کے لیے دعا کرتے ہیں ، اور اگر شام کا وقت ہو تو ستر ہزار فرشتے صبح تک اس کے لیے دعا کرتے ہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1442
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سنن أبي داود (3099), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 428
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 10211 ، ومصباح الزجاجة : 511 ) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الجنائز 7 ( 3098 ، 3099 ) ، سنن الترمذی/الجنائز 2 ( 969 ) ، مسند احمد ( 1/97 ، 120 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1443
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ ، حَدَّثَنَا أَبُو سِنَانٍ الْقَسْمَلِيُّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ عَادَ مَرِيضًا ، نَادَى مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ طِبْتَ وَطَابَ مَمْشَاكَ ، وَتَبَوَّأْتَ مِنَ الْجَنَّةِ مَنْزِلًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کسی مریض کی عیادت کی تو آسمان سے منادی ( آواز لگانے والا ) آواز لگاتا ہے : تم اچھے ہو اور تمہارا جانا اچھا رہا ، تم نے جنت میں ایک ٹھکانا بنا لیا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1443
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (2008), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 428
حدیث تخریج « سنن الترمذی/البروالصلة 64 ( 2008 ) ، ( تحفة الأشراف : 14133 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/326 ، 344 ، 354 ) ( حسن ) ( تراجع الألبانی ، رقم : 593 ) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔