کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: مسجد میں نماز کے لیے جگہ مخصوص کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1429
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ مَحْمُودٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَلَاثٍ : عَنْ نَقْرَةِ الْغُرَابِ ، وَعَنْ فِرْشَةِ السَّبُعِ ، وَأَنْ يُوطِنَ الرَّجُلُ الْمَكَانَ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ كَمَا يُوطِنُ الْبَعِيرُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن شبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( نماز میں ) تین چیزوں سے منع فرمایا : ” ایک تو کوے کی طرح ٹھونگ مارنے سے ، دوسرے درندے کی طرح بازو بچھانے سے ، اور تیسرے نماز کے لیے ایک جگہ متعین کرنے سے جیسے اونٹ اپنی جگہ مقرر کرتا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1429
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سنن أبي داود (862) نسائي (1113), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 427
تخریج حدیث « سنن ابی داود/الصلاة 148 ( 862 ) ، سنن النسائی/التطبیق 55 ( 1113 ) ، ( تحفة الأشراف : 9701 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 3/428 ، 444 ) ، سنن الدارمی/الصلاة 75 ( 1362 ) ( حسن ) »
حدیث نمبر: 1430
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ : " أَنَّهُ كَانَ يَأْتِي إِلَى سُبْحَةِ الضُّحَى ، فَيَعْمِدُ إِلَى الْأُسْطُوَانَةِ دُونَ الْمُصْحَفِ ، فَيُصَلِّ قَرِيبًا مِنْهَا ، فَأَقُولُ لَهُ : أَلَا تُصَلِّي هَا هُنَا وَأُشِيرُ إِلَى بَعْضِ نَوَاحِي الْمَسْجِدِ ، فَيَقُولُ : إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى هَذَا الْمُقَامَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` وہ نماز الضحیٰ ( چاشت کی نفل نماز ) کے لیے آتے اور صف سے پہلے ستون کے پاس جاتے اور اس کے نزدیک نماز پڑھتے ، میں مسجد کے ایک گوشے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان سے کہتا : آپ اس جگہ نماز کیوں نہیں پڑھتے ؟ تو وہ کہتے : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اسی جگہ کا قصد کرتے تھے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: بظاہر یہ حدیث اگلی حدیث کے خلاف ہے جس میں مسجد کے اندر ایک جگہ متعین کرنے کی ممانعت ہے، تطبیق اس طرح ممکن ہے کہ یہ ممانعت فرائض کے لئے ہے، سنن اور نوافل کے لئے نہیں، اور بعض نے کہا ہے کہ قصد کرنا اور خاص کرنا دونوں الگ الگ چیز ہے، کیوں کہ خاص کرنے میں ملکیت ثابت ہوتی ہے، اور مسجد کسی کی ملک نہیں ہے، اور قصد کرنے کا یہ مطلب ہو گا کہ اگر جگہ خالی ہو تو وہاں پڑھے، اور نبی کریم ﷺ جو اس ستون کا قصد کرتے تو اس کی کوئی علت حدیث میں مذکور نہیں ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1430
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الصلاة 95 ( 502 ) ، صحیح مسلم/الصلاة 49 ( 509 ) ، ( تحفة الأشراف : 4541 ) ، مسند احمد ( 4/48 ) ( صحیح ) »