کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: صلاۃ التسبیح کا بیان۔
حدیث نمبر: 1386
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عِيسَى الْمَسْرُوقِيُّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ محمد بن عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ : " يَا عَمِّ ، أَلَا أَحْبُوكَ ، أَلَا أَنْفَعُكَ ، أَلَا أَصِلُكَ " ، قَالَ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " تُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ، تَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ ، فَإِذَا انْقَضَتِ الْقِرَاءَةُ ، فَقُلْ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً قَبْلَ أَنْ تَرْكَعَ ، ثُمَّ ارْكَعْ فَقُلْهَا عَشْرًا ، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ فَقُلْهَا عَشْرًا ، ثُمَّ اسْجُدْ فَقُلْهَا عَشْرًا ، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَك فَقُلْهَا عَشْرًا ، ثُمَّ اسْجُدْ فَقُلْهَا عَشْرًا ، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ فَقُلْهَا عَشْرًا قَبْلَ أَنْ تَقُومَ ، فَتِلْكَ خَمْسٌ وَسَبْعُونَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ، وَهِيَ ثَلَاثُ مِائَةٍ فِي أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ ، فَلَوْ كَانَتْ ذُنُوبُكَ مِثْلَ رَمْلِ عَالِجٍ غَفَرَهَا اللَّهُ لَكَ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ يَقُولُهَا فِي يَوْمٍ ، قَالَ : " قُلْهَا فِي جُمُعَةٍ ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقُلْهَا فِي شَهْرٍ ، حَتَّى قَالَ : فَقُلْهَا فِي سَنَةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” میرے چچا ! کیا میں آپ کو عطیہ نہ دوں ؟ کیا میں آپ کو فائدہ نہ پہنچاؤں ؟ کیا میں آپ سے صلہ رحمی نہ کروں ؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ، اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آپ چار رکعت پڑھیے ، اور ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور کوئی سورۃ ملا کر پڑھیے ، جب قراءت ختم ہو جائے تو «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» پندرہ مرتبہ رکوع سے پہلے پڑھیے ، پھر رکوع کیجئیے اور انہی کلمات کو دس مرتبہ پڑھیے ، پھر اپنا سر اٹھائیے اور انہیں کلمات کو دس مرتبہ پڑھیے ، پھر سجدہ کیجئیے ، اور انہی کلمات کو دس مرتبہ پڑھیے ، پھر اپنا سر اٹھائیے ، اور کھڑے ہونے سے پہلے انہی کلمات کو دس مرتبہ پڑھیے ، تو ہر رکعت میں پچھتر ( ۷۵ ) مرتبہ ہوئے ، اور چار رکعتوں میں تین سو ( ۳۰۰ ) مرتبہ ہوئے ، تو اگر آپ کے گناہ ریت کے ٹیلوں کے برابر ہوں تو بھی اللہ انہیں بخش دے گا ، انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! جو شخص اس نماز کو روزانہ نہ پڑھ سکے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہفتہ میں ایک بار پڑھ لے ، اگر یہ بھی نہ ہو سکے ، تو مہینے میں ایک بار پڑھ لے “ یہاں تک کہ فرمایا : ” سال میں ایک بار پڑھ لے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1386
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 12015 ) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الصلاة 303 ( 1297 ) ، سنن الترمذی/الصلاة 233 ( 482 ) ( صحیح ) » ( دوسری سند سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے ، ورنہ اس کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ ضعیف ہیں ، علماء نے اختلاف کیا ہے کہ یہ حدیث کیسی ہے ، ابن خزیمہ اور حاکم نے اس کو صحیح کہا ، اور ایک جماعت نے اس کو حسن کہا ، اور ابن الجوزی نے اس کو موضوعات میں ذکر کیا ، حافظ ابن حجر نے کہا یہ حدیث حسن ہے ، اور ابن الجوزی نے برا کیا جو اس کو موضوع قرار دیا )
حدیث نمبر: 1387
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ : يَا عَبَّاسُ ، يَا عَمَّاهُ ، " أَلَا أُعْطِيكَ ، أَلَا أَمْنَحُكَ ، أَلَا أَحْبُوكَ ، أَلَا أَفْعَلُ لَكَ عَشْرَ خِصَالٍ إِذَا أَنْتَ فَعَلْتَ ذَلِكَ ، غَفَرَ اللَّهُ لَكَ ذَنْبَكَ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ ، وَقَدِيمَهُ وَحَدِيثَهُ ، وَخَطَأَهُ وَعَمْدَهُ ، وَصَغِيرَهُ وَكَبِيرَهُ ، وَسِرَّهُ وَعَلَانِيَتَهُ ، عَشْرُ خِصَالٍ : أَنْ تُصَلِّيَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ، تَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ ، فَإِذَا فَرَغْتَ مِنَ الْقِرَاءَةِ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ ، قُلْتَ وَأَنْتَ قَائِمٌ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً ، ثُمَّ تَرْكَعُ فَتَقُولُ وَأَنْتَ رَاكِعٌ عَشْرًا ، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ الرُّكُوعِ فَتَقُولُهَا عَشْرًا ، ثُمَّ تَهْوِي سَاجِدًا فَتَقُولُهَا وَأَنْتَ سَاجِدٌ عَشْرًا ، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ فَتَقُولُهَا عَشْرًا ، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا ، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ فَتَقُولُهَا عَشْرًا ، فَذَلِكَ خَمْسَةٌ وَسَبْعُونَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ، تَفْعَلُ فِي أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ ، إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تُصَلِّيَهَا فِي كُلِّ يَوْمٍ مَرَّةً فَافْعَلْ ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَفِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً ، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ شَهْرٍ مَرَّةً ، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي عُمُرِكَ مَرَّةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” اے عباس ! اے چچا جان ! کیا میں آپ کو عطیہ نہ دوں ؟ کیا میں آپ سے اچھا سلوک نہ کروں ؟ کیا میں آپ کو دس خصلتیں نہ بتاؤں کہ اگر آپ اس کو اپنائیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے اور پچھلے ، نئے اور پرانے ، جانے اور انجانے ، چھوٹے اور بڑے ، پوشیدہ اور ظاہر سبھی گناہ بخش دے ، وہ دس خصلتیں یہ ہیں : آپ چار رکعت پڑھیں ، ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور کوئی اور سورت پڑھیں ، جب پہلی رکعت میں قراءت سے فارغ ہو جائیں تو کھڑے کھڑے پندرہ مرتبہ «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» کہیں ، پھر رکوع کریں ، اور بحالت رکوع اس تسبیح کو دس مرتبہ کہیں ، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھائیں اور ان کلمات کو دس مرتبہ کہیں ، پھر سجدہ میں جائیں اور بحالت سجدہ ان کلمات کو دس مرتبہ کہیں ، پھر سجدہ سے اپنا سر اٹھائیں ، اور ان کلمات کو دس مرتبہ کہیں ، پھر سجدہ کریں ، اور ان کلمات کو دس مرتبہ کہیں ، پھر سجدہ سے اپنا سر اٹھائیں اور ان کلمات کو دس مرتبہ کہیں ، تو یہ ہر رکعت میں پچھتر ( ۷۵ ) مرتبہ ہوا ، چاروں رکعتوں میں اسی طرح کریں ، اگر آپ سے یہ ہو سکے تو روزانہ یہ نماز ایک مرتبہ پڑھیں ، اور اگر یہ نہ ہو سکے تو ہفتہ میں ایک بار پڑھیں ، اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو مہینے میں ایک بار پڑھیں ، اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو اپنی عمر میں ایک بار پڑھیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1387
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « سنن الدارمی/الصلاة 303 ( 1297 ) ، ( تحفة الأشراف : 6038 ) ( صحیح ) »