حدیث نمبر: 1349
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَسْمَعُ قِرَاءَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ ، وَأَنَا عَلَى عَرِيشِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت اپنے گھر کی چھت پہ لیٹی ہوئی سنتی رہتی تھی ۔
حدیث نمبر: 1350
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ جَسْرَةَ بِنْتِ دَجَاجَةَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ ، يَقُولُ : " قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِآيَةٍ حَتَّى أَصْبَحَ يُرَدِّدُهَا ، وَالْآيَةُ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ سورة المائدة آية 118 .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جسرۃ بنت دجاجہ کہتی ہیں کہ` میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز میں کھڑے ہوئے ، اور ایک آیت کو صبح تک دہراتے رہے ، اور وہ آیت یہ تھی : «إن تعذبهم فإنهم عبادك وإن تغفر لهم فإنك أنت العزيز الحكيم» ” اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں ، اور اگر تو ان کو بخش دے ، تو تو عزیز ( غالب ) ، اور حکیم ( حکمت والا ) ہے “ ( سورة المائدة : 118 ) ۔
وضاحت:
۱؎: یہ سورۃ المائدۃ کی اخیر آیت ہے، اور عیسی علیہ السلام کی زبان پر وارد ہوئی، وہ قیامت کے دن یہ کہیں گے۔
حدیث نمبر: 1351
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَّى ، فَكَانَ إِذَا مَرَّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ سَأَلَ ، وَإِذَا مَرَّ بِآيَةِ عَذَابٍ اسْتَجَارَ ، وَإِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا تَنْزِيهٌ لِلَّهِ سَبَّحَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں جب کسی رحمت کی آیت سے گزرتے تو اللہ تعالیٰ سے اس کا سوال کرتے ، اور عذاب کی آیت آتی تو اس سے پناہ مانگتے ، اور جب کوئی ایسی آیت آتی جس میں اللہ تعالیٰ کی پاکی ہوتی تو تسبیح کہتے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: تلاوت قرآن کے آداب میں سے یہ ہے کہ قرآن شریف سمجھ کر پڑھے، اور رحمت اور وعدوں کی آیتوں پر دعا کرے، اور عذاب و وعید کی آیتوں پر استغفار کرے، اور اللہ کی پناہ مانگے۔
حدیث نمبر: 1352
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا ، فَمَرَّ بِآيَةِ عَذَابٍ ، فَقَالَ : " أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ وَوَيْلٌ لِأَهْلِ النَّارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابولیلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں نماز پڑھی ، آپ رات میں نفل نماز پڑھ رہے تھے ، جب عذاب کی آیت سے گزرے تو فرمایا : ” میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں جہنم کے عذاب سے ، اور تباہی ہے جہنمیوں کے لیے “ ۔
حدیث نمبر: 1353
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " كَانَ يَمُدُّ صَوْتَهُ مَدًّا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قتادہ کہتے ہیں کہ` میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کے متعلق پوچھا ، تو انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آواز کو کھینچتے تھے ۔
حدیث نمبر: 1354
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : أَتَيْتُ عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ : أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ ، أَوْ يُخَافِتُ بِهِ ؟ ، قَالَتْ : " رُبَّمَا جَهَرَ ، وَرُبَّمَا خَافَتَ " ، قُلْتُ : " اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي هَذَا الْأَمْرِ سَعَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ` میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا ، اور ان سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن بلند آواز سے پڑھتے تھے یا آہستہ ؟ انہوں نے کہا : کبھی بلند آواز سے پڑھتے تھے اور کبھی آہستہ ، میں نے کہا : اللہ اکبر ، شکر ہے اس اللہ کا جس نے اس معاملہ میں وسعت رکھی ہے ۔