کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: بیمار کی نماز کا بیان۔
حدیث نمبر: 1223
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : كَانَ بِيَ النَّاصُورُ ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ ، فَقَالَ : " صَلِّ قَائِمًا ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` مجھے ناسور ۱؎ کی بیماری تھی ، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے متعلق پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم کھڑے ہو کر نماز پڑھو ، اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھو ، اور اگر بیٹھنے کی بھی طاقت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھو “ ۔
وضاحت:
۱؎: باء اور نون دونوں کے ساتھ اس لفظ کا استعمال ہوتا ہے، باسور مقعد کے اندرونی حصہ میں ورم کی بیماری کا نام ہے اور ناسور ایک ایسا خراب زخم ہے کہ جب تک اس میں فاسد مادہ موجود رہے تب تک وہ اچھا نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1223
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث « سنن ابی داود/الصلاة 179 ( 952 ) ، سنن الترمذی/الصلاة 158 ( 372 ) ، ( تحفة الأشراف : 10832 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 19 ( 1117 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1224
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق الْأَزْرَقُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى جَالِسًا عَلَى يَمِينِهِ وَهُوَ وَجِعٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے دائیں پہلو پر بیٹھ کر نماز پڑھی ، اس وقت آپ بیمار تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1224
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدًا, جابر: ضعيف رافضي, وأبو حريز: مجهول (تقريب: 8044), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 420
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 11789 ، ومصباح الزجاجة : 430 ) ( ضعیف ) » ( اس کی سند میں جابر بن یزید الجعفی ضعیف ومتروک ، اور ابو حریز مجہول ہیں )