کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: نماز پر بنا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1220
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى التَّيْمِيُّ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ وَكَبَّرَ ، ثُمَّ أَشَارَ إِلَيْهِمْ ، فَمَكَثُوا ، ثُمَّ انْطَلَقَ فَاغْتَسَلَ ، وَكَانَ رَأْسُهُ يَقْطُرُ مَاءً ، فَصَلَّى بِهِمْ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : " إِنِّي خَرَجْتُ إِلَيْكُمْ جُنُبًا ، وَإِنِّي نَسِيتُ حَتَّى قُمْتُ فِي الصَّلَاةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے نکلے اور آپ نے «الله أكبر» کہا ، پھر لوگوں کو اشارہ کیا کہ وہ اپنی جگہ ٹھہرے رہیں ، لوگ ٹھہرے رہے ، پھر آپ گھر گئے اور غسل کر کے آئے ، آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا ، پھر آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی ، جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : ” میں تمہارے پاس جنابت کی حالت میں نکل آیا تھا ، اور غسل کرنا بھول گیا تھا یہاں تک کہ نماز کے لیے کھڑا ہو گیا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1220
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 14594 ، ومصباح الزجاجة : 427 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأذان 25 ( 640 ، 639 ) ، صحیح مسلم/المساجد 29 ( 605 ) ، سنن ابی داود/الطہارة 94 ( 235 ) ، سنن النسائی/الإمامة 14 ( 793 ) ، مسند احمد ( 1/368 ، 2/237 ، 259 ، 448 ) ( حسن صحیح ) » ( یہ سند حسن ہے ، اس کے رواة ثقہ ہیں ، اور مسلم کے راوی ہیں ، یعنی سند مسلم کی شرط پر ہے ، اور اسامہ بن زید یہ لیثی ابو زید مدنی صدوق ہیں ، لیکن ان کے حفظ میں کچھ ضعف ہے ، بو صیری اور ابن حجر وغیرہ نے شاید اسامہ بن زید کو عدوی مدنی سمجھ کر اس کی تضعیف کی ہے ، لیکن متن حدیث ثابت ہے ، نیز اس کے شواہد بھی ہیں ، جیسا کہ تخریج سے واضح ہے ، ملاحظہ ہو : صحیح ابی داود : 227- 231 )
حدیث نمبر: 1221
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَصَابَهُ قَيْءٌ أَوْ رُعَافٌ أَوْ قَلَسٌ أَوْ مَذْيٌ ، فَلْيَنْصَرِفْ ، فَلْيَتَوَضَّأْ ، ثُمَّ لِيَبْنِ عَلَى صَلَاتِهِ وَهُوَ فِي ذَلِكَ لَا يَتَكَلَّمُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جسے نماز میں قے ، نکسیر ، منہ بھر کر پانی یا مذی آ جائے تو وہ لوٹ جائے ، وضو کرے پھر اپنی نماز پر بنا کرے ، لیکن اس دوران کسی سے کلام نہ کرے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1221
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،لأنه من رواية إسماعيل عن الحجازين وھي ضعيفة‘‘, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 420
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 16252 ، ومصباح الزجاجة : 428 ) ( ضعیف ) » ( اس کی سند میں اسماعیل بن عیاش ہیں ، اور ان کی روایت حجاز سے ضعیف ہوتی ہے ، اور یہ اسی قبیل سے ہے )